پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ نصاب یکجا کرکے ایم ڈی کیٹ پیپر بنایا ہے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ایم ڈی کیٹ امتحانات پر ہر سال سوال اٹھتے ہیں۔ پی ایم ڈی سی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ نصاب کو یکجا کرکے پیپر بنایا ہے۔ پہلی بار بہترین امتحان ہونے جا رہا ہے۔ اگر کوئی پرچہ آؤٹ ہوا تو صوبہ ذمہ دار ہو گا۔
مزید پڑھیں: ایم ڈی کیٹ 2025 کے لیے کتنے لاکھ امیدوار رجسٹرڈ ہوئے؟
ایم ڈی کیٹ سے متعلق پریس کانفرنس میں وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ پی ایم ڈی سی سوالات کا بینک بنا دیا گیا ہے ۔ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اقدام اٹھایاگیا۔ ہر صوبے کو 3، تین سوالنامے دیے گئے ہیں، صوبے کی مرضی ہے کون سا سوالنامہ دے۔ پیپر کو کنڈکٹ کرنا پی ایم ڈی سی کا کام نہیں۔
مصطفی کمال نے کہا کہ ملک میں 22 ہزار سیٹیں ہیں جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار 2 سو طلبا نے اپلائی کیا ہے۔ صرف 22 ہزار طالب علموں کو داخلے دیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:ایم ڈی کیٹ 2025 کب اور کہاں ہوگا؟ ٹیسٹ لینے والی جامعات اور فیسوں کی تفصیل جاری
ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈی کیٹ کی فیس 9 ہزار روپے ہے۔ ساڑھے 7 ہزار صوبوں کو دیا گیا ہے۔ پی ایم ڈی سی صرف 15 سو چارج کرتا ہے۔ امید ہے کہ صوبے پی ایم ڈی سی امتحانات میں طلبا کو بہترین سہولیات دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
MDCAT PMDC ایم ڈی کیٹ پی ایم ڈی سی وزیر صحت مصطفیٰ کمال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم ڈی کیٹ پی ایم ڈی سی وزیر صحت مصطفی کمال وزیر صحت مصطفی پی ایم ڈی سی ایم ڈی کیٹ
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔