غزہ امن منصوبے کی نگرانی کیلئے برطانوی فوجی اسرائیل میں تعینات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے پیر کو لندن میں کاروباری رہنماؤں سے خطاب کے دوران اس تعیناتی کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی فورسز خصوصی مہارت اور تجربے کے ذریعے خطے میں طویل المدتی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کی درخواست پر برطانوی فوجیوں کو غزہ امن منصوبے کی نگرانی کے لیے اسرائیل میں تعینات کر دیا گیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی فوج کے ایک سینئر کمانڈر اور محدود تعداد میں فوجیوں کو امریکا کی درخواست پر غزہ امن منصوبے کی نگرانی کے لیے اسرائیل بھیجا گیا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے پیر کو لندن میں کاروباری رہنماؤں سے خطاب کے دوران اس تعیناتی کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی فورسز خصوصی مہارت اور تجربے کے ذریعے خطے میں طویل المدتی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جان ہیلی کا کہنا تھا کہ ایک برطانوی اعلیٰ افسر کو امریکی کمانڈر کا ڈپٹی کمانڈر مقرر کیا گیا ہے جو ایک سول ملٹری کو آرڈی نیشن سینٹر چلائیں گے۔ اس مرکز میں مصر، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے فوجی بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کی نئی وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر نے ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ ان کا اسرائیل میں فوجی بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تھا کہ
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔