ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کے صوبائی آرگنائزر علامہ قاضی نادر حسین علوی کاوفد کے ہمراہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں نے چیئرمین ہمدرد ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل سید فضل عباس نقوی ایڈووکیٹ سے ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر علامہ غلام مصطفی انصاری، مولانا علمدار نقوی، علامہ غلام عباس یزدانی، مولانا سید فرخ شمسی، مولانا حسین مصطفی خمینی اور دیگر موجود تھے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے صوبائی آرگنائزر علامہ قاضی نادر حسین علوی نے وفد کے ہمراہ سیلاب متاثرہ علاقوں علی پور اور سیت پور کا دورہ کیا، اور مقامی علما کرام میں خصوصی طور پر راشن بھی تقسیم کیا۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں نے چیئرمین ہمدرد ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل سید فضل عباس نقوی ایڈووکیٹ سے ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر علامہ غلام مصطفی انصاری، مولانا علمدار نقوی، علامہ غلام عباس یزدانی، مولانا سید فرخ شمسی، مولانا حسین مصطفی خمینی اور دیگر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ غلام
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔