مسلم لیگ (ن) کا آزاد کشمیر حکومت سے علیحدگی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
مظفرآباد:۔ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیاہے اور صدر مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد لاتی ہے تو یہ ان کا جمہوری حق ہے، (ن) لیگ کسی نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔
ایک بیان میں صدر مسلم لیگ آزاد کشمیر نے کہا کہ کسی غیر فطری حکومت سازی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ مسلم لیگ (ن) اب اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ جو بھی جماعتی پالیسی سے انحراف کرے گا، پارٹی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔
شاہ غلام قادر نے کہا کہ نئی حکومت صرف شفاف عام انتخابات سے ہی ممکن ہے۔ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر مہاجرین اور بیرون ملک کشمیریوں کی فلاح کے لیے سرگرم ہے۔ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر ایک منظم اور مقبول جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ہم آئینی و سیاسی بحران کے حل میں مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مضبوط حکومت صرف عام انتخابات سے قائم ہو سکتی ہے۔نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں بھرپور انتخابی مہم چلائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔