حق دو عوام کو۔۔بدلونظام کو
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جماعت اسلامی آزاد کشمیرگلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نہ صرف ریاست کے آزاد خطوں کے عوام کے لیے امید کی کرن بن چکے ہیں بلکہ مقبوضہ کشمیرکے حریت پسندعوام کے لیے بھی آخری امید ہیں،ڈاکٹرمحمد مشتاق خا ن نے حق دو عوام کو بدلونظام کو کے عنوان سے بھرپور مہم چلانے کااعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد مشتاق خان کا موقف ہے کہ ریاست کے آزاد خطوںکو جماعت اسلامی آزادکشمیر اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتی ہے جماعت اسلامی یہ چاہتی ہے کہ اللہ کا دیا ہوا نظام قائم اور غالب ہوجائے تاکہ عوام کو انصاف ملے ان کے مسائل حل ہوں ایسا نہ ہوکہ ان کو اپنے مسائل حل کرانے کے لیے احتجاج کرنا پڑے اور جانوں کے نذرانے دینے پڑیں، یہ کلچر درست نہیں ہے، جماعت اسلامی پرامن اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے اس نظام کو تبدیل کرنا چاہتی ہے فرسودہ نظام اور موروثی قیادت ہی ہمارے مسائل کی ذمے دار ہے، جس سے نجات کے لیے ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے مہم کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے چند دن قبل اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا جو حسب ذیل ہے، نریندر مودی کی طرف سے ریاستی حیثیت کے خاتمے کے بعد ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کی بحالی کے لیے آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور اسمبلی کو پوری ریاست کی نمائندہ حکومت اور اسمبلی قرار دیا جائے اور اس مقصد کے لیے حکومت پاکستان اور جملہ متعلقین سے ضروری مشاورت کے ساتھ مطلوبہ آئینی ترامیم اور انتظامی اقدامات کیے جائیں، مہاجرین کی نشستوں پر دھاندلی کا خاتمہ کیا جائے، جعلی ووٹرز کو فہرستوں سے نکال کراصل کشمیر ی مہاجرین کے نام ووٹر فہرستوں میں درج کیے جائیں، ارکان اسمبلی اور وزراء کے ترقیاتی فنڈز اور تقرریوں تبادلوں کے اختیارات ختم کیے جائیں حریت کانفرنس، متحدہ جہاد کونسل اور مہاجرین 1989 کے لیے دو نشستیں مختص کی جائیں جن کا بالواسطہ انتخاب بذریعہ اسمبلی کیا جائے، کابینہ کے اراکین، وزراء اور مشیران کی تعداد کو مجموعی تعداد کے 20 فی صد تک محدود کیا جائے سرکاری ملازمتوں میں اسکیل B-16 اور اس سے بالا تقرریاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اوپن میرٹ پر کی جائیں، تاہم مہاجرین 1989 اور خصوصی (معذور) افراد کے لیے کوٹا مختص کیا جائے۔ اسکیل B-1 تا 16 تک مقامی حلقہ جاتی و ضلعی کوٹا برقرار رکھا جائے، یہ بات انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ نظام زکواۃ و عشر میں شرعی تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی جائیں اور زکواۃ و منافع فنڈ کو حکومتی شخصیات، وزراء و ارکان اسمبلی اور دیگر کے علاج معالجے اور سیر سپاٹے پر خرچ کرنے کے بجائے مستحقین کی کفالت اور انہیں اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے قابل بنانے کے لیے جامع نظام وضع کیا جائے۔
آزاد کشمیر میں موجود ہائیڈل پوٹینشل سے فائدہ اٹھانے کے لیے SIFC کی طرز پر ’’ون ونڈو آپریشن‘‘ کا نظام متعارف کرایا جائے، اور پرائیویٹ سیکٹر و اوورسیز کشمیری کمیونٹی کے تعاون سے جوائنٹ وینچر کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کی جائے، اضافی بجلی فروخت کر کے ریاستی آمدن میں اضافہ کیا جائے، آزاد کشمیر کو خوراک اور لائیو اسٹاک میں خود کفیل بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں فوری، مفت اور باسہولت انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتی نظام میں اصلاحات کی جائیں، عدلیہ میں ججوں کی خالی آسامیوں کو پر کیا جائے، اور شریعت اپیلٹ بنچ میں سات سال سے خالی عالم جج کی آسامی پر میرٹ کے مطابق اہل جج کا تقرر کیا جائے، انتظامی اصلاحات کے تحت انتظامی مشینری کی ڈاؤن سائزنگ کی جائے۔ محکموں کو باہم مدغم کرتے ہوئے ان کی تعداد کم کی جائے، پبلک سروس کمیشن کی تکمیل، چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین احتساب بیورو کی تعیناتی شفاف اور میرٹ پر کی جائے، آٹا اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عام آدمی تک منتقل نہیں ہو سکے؛ لہٰذا روٹی، بیکری مصنوعات اور بجلی سے تیار شدہ اشیاء کی ارزاں نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے، جعلی ادویات، خوردنی اشیاء میں ملاوٹ، ناقص اور مضر صحت اشیائے خوردنی کے سدباب کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں قبضہ مافیا اور تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے، ٹیکس چوری روکی جائے، متروکہ املاک اور خالصہ جات کی ناجائز الاٹمنٹ ختم کی جائے۔ صحت کی معیاری اور مفت سہولت کے لیے جامع ہیلتھ پالیسی جاری کی جائے اور ہیلتھ کارڈ بحال کیا جائے۔ عوامی نمائندوں کی پنشن اور مراعات کا خاتمہ کیا جائے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مابین آئینی، انتظامی اور زمینی روابط مستحکم کیے جائیں، دونوں خطوں کی اپنی اسمبلیاں و حکومتیں برقرار رہیں لیکن ایک مشترکہ کونسل اور صدر ہو، اور صدر کی ایک ٹرم آزاد کشمیر جبکہ دوسری ٹرم گلگت بلتستان سے ہو، اس مقصد کے لیے آئینی ترامیم کی جائیں، رٹھوعہ ہریام پل، لیپہ ٹنل، لوہار گلی ٹنل، کامسر کہوڑی ٹنل اور دیگر روڈ انفرا اسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کی جائے میرپور مظفرآباد ایکسپریس وے کو CPEC منصوبے میں شامل کرنے کا خیر مقدم کیا جاتا ہے،
میرپور انٹرنیشنل ائرپورٹ کی تعمیر، ڈرائی پورٹ کا قیام، منگلا ڈیم کے نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور اپ ریزنگ پروجیکٹ کے متاثرین کے مسائل کا حل کیا جائے، بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے، مقامی و ضلعی حکومتوں کا قیام عمل میں لایا جائے اور ترقیاتی فنڈز انہی اداروں کے ذریعے استعمال کیے جائیں۔ طلبہ یونین کی بحالی اور یونین انتخابات کا انعقاد کیا جائے، اووسیز کشمیری ہمارا ثاثہ ہیں ان کو ووٹ کا حق دیا جائے یا ان کے لیے اسمبلی کی نشستیں مختص کیں جائیں۔ جماعت اسلامی آنے والے دنوں میں مزید اہم اصلاحات کے حوالے سے اپنے پورے منشور کے ساتھ عوام کے پاس جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر محمد مشتاق خان جماعت اسلامی کیے جائیں کیا جائے کی جائیں کے ذریعے کے لیے ا کی جائے اور اس
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔