اسلام آباد میں گولی لگنے سے زخمی ہونے والے ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر دوران علاج دم توڑ گئے۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ ایس پی انڈسٹریل ایریا  گولی لگنے سے زخمی ہوگئے، ایس پی عدیل اکبر کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ایس پی انڈسٹریل ایریا نے خود کو گولی مارلی، زخمی ایس پی کی اسپتال میں حالت نازک بتائی جا رہی ہے جب کہ پولیس کی بھاری نفری اسپتال کے باہر موجود ہے۔

ذرائع نے کہا کہ ایس پی عدیل اکبر کی جانب سے گن مین سے اسلحہ چھین کر خود کو گولی ماری، ایس پی عدیل اکبر کے گن مین اور موقع پر موجود دیگر اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ایک فون سننے کے بعد ایس پی آئی نائن عدیل اکبر نے خود کو سینے پر پستول سے گولی ماری۔

ایس پی آئی نائن عدیل اکبرکو آخری کال کس کی آئی؟ اس حوالے سے اعلی سطح پر تحقیقات جاری  ہیں جب کہ ایس پی کے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کیا جارہا ہے۔ 

ذرائع نے کہا کہ ایس پی کے آپریٹر کو حراست میں لے لیا گیا، اسپتال ذرائع نے کہا کہ ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔

ایس پی آئی نائن عدیل اکبر کا پوسٹمارٹم کرانے کے حوالے سے آئی جی علی ناصر رضوی خود پمز اسپتال میں موجود رہے، آئی جی اسلام آباد پولیس نے متوفی ایس پی عدیل اکبر کے ڈاکٹروں سے خود تمام تفصیلات نوٹ کیں۔

ذرائع کے مطابق ایس پی عدیل اکبر اس سے قبل بلوچستان میں تعینات تھے، ایس پی عدیل اکبر 46 کامن کے افسر تھے، مرحوم کا تعلق کامونکی سے ہے۔

ایس پی عدیل اکبر کو آخری کال کس نے کی اور کیا بات کی؟  ذرائع  نے کہا کہ اعلی سطح کے تحقیقات کاروں کی تحقیقات آخری کال وائس ریکارڈنگ پر رک گئی۔

ٹھیک ٹھاک ڈیوٹی کرتے اچانک فوری وجہ کیا بنی؟ ذرائع نے کہا کہ آخری کال وائس ریکارڈنگ  یا وقوعہ کے روز کی تمام کالز سے واضح ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایس پی عدیل اکبر ذرائع نے کہا کہ انڈسٹریل ایریا آخری کال کے مطابق خود کو

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے