ٹی ایل پی کو ایک پروجیکٹ کے طور پر لانچ کیا گیا، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی کو ایک پروجیکٹ کے طور پر لانچ کیا گیا۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ماضی میں کچھ جماعتوں پر پابندیاں لگائی گئیں تو انہوں نے نام تبدیل کرلیا۔
انہوں نے کہا ک ٹی ایل پی جو کر رہی تھی وہ سیاست نہیں انتشار تھا، حکومت کا فیصلہ کسی مذہبی جماعت کے خلاف نہیں، یہ ایک مائنڈ سیٹ کے خلاف ریاست کا فیصلہ ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ کاہنہ میں ایک بار ایئر کوالٹی انڈیکس 660 تک چلا گیا تھا، کچھ گھنٹوں کی محنت کے بعد کاہنہ میں اے کیو آئی 160 پر آگیا، محکمہ ماحولیات آلودگی کو کم کرنے کے لیے بہت محنت کر رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر جواب کس کودینا ہے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔