نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا یہ بات درست ہے کہ ماضی میں کچھ جماعتوں پر پابندیاں لگائی گئیں تو انہوں نے نام تبدیل کر لیا لیکن ہم نے ایک اسپیشل پراسیکوٹر سیل بنایا ہے، ایسے معاملات میں ملوث افراد کو بہت جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی کو ایک پروجیکٹ کے طور پر لانچ کیا گیا تھا، ٹی ایل پی جو کر رہی تھی وہ سیاست نہیں انتشار تھا حکومت مذہبی جماعتوں کے خلاف نہیں لیکن ٹی ایل پر پابندی ایک مائنڈ سیٹ کیخلاف ریاست کا فیصلہ ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا یہ بات درست ہے کہ ماضی میں کچھ جماعتوں پر پابندیاں لگائی گئیں تو انہوں نے نام تبدیل کر لیا لیکن ہم نے ایک اسپیشل پراسیکوٹر سیل بنایا ہے، ایسے معاملات میں ملوث افراد کو بہت جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا ٹی ایل پی کو ایک پروجیکٹ کے طور پر لانچ کیا گیا، ٹی ایل پی جو کر رہی تھی وہ سیاست نہیں انتشار تھا۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا حکومت کا فیصلہ کسی مذہبی جماعت کے خلاف نہیں، یہ ایک مائنڈ سیٹ کے خلاف ریاست کا فیصلہ ہے، یہ فیصلہ اس مائنڈ سیٹ کے خلاف ہے جو اپنی بات کو منوانے کے لیے امن و امان کی صورتحال کو خراب کر رہا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا میری اطلاعات کے مطابق ٹی ایل پی کی لیڈرشپ پنجاب میں نہیں ہے کیونکہ ایسے لوگ گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنی جگہیں تبدیل کرتے رہتے ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں ٹریس کر رہے ہیں، بہت جلد ان کی گرفتاری کی خبر بھی ملے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بخاری کا کہنا تھا مائنڈ سیٹ ٹی ایل پی کا فیصلہ کے خلاف

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد