Express News:
2026-06-03@08:40:39 GMT

ٹی ایل پی پر پابندی، فرسٹ شیڈول کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT

اسلام آباد:

وفاقی وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیش جاری کرتے ہوئے فرسٹ شیڈول میں شامل کیا ہے اور اس کے بعد وزارت قانون اس حوالے سے ریفرنس سپریم کورٹ کو بھجوائے گی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ تحریک لبیک پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے اور وزارت داخلہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 11 بی کی ذیلی شق ون اے کے تحت ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا ہے اور اس سے فرسٹ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق فرسٹ شیڈول انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ایسی تنظیموں یا جماعتوں پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں کالعدم قرار دیا گیا ہو اور فرست شیڈول میں شامل کی گئیں جماعتوں پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہے۔

فرسٹ شیڈول میں شامل جماعتوں کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوتی ہے، فرسٹ شیڈول میں شامل تنظیم کا ہر قسم کا فعال ہونا، دفاتر کھولنا، جلسے جلوس، یا کسی بھی سرگرمی میں شریک ہونا غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ فرسٹ شیڈول میں شامل جماعتوں یا تنظیموں کے فنڈز اور مالی وسائل پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے، تنظیم کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جاتے ہیں اور چندہ جمع کرنے یا مالی امداد لینے اور دینے پر پابندی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کالعدم جماعت قرار؛ حکومت نے پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

فرسٹ شیڈول میں شامل کالعدم تنظیم کے رہنماؤں اور فعال افراد پر ملک سے باہر جانے یا آنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے،کالعدم تنظیم کا میڈیا پر پرچار، ویڈیوز، بیانات یا سوشل میڈیا پر سرگرمیاں بھی ممنوع ہوتی ہیں۔

اسی طرح اخبارات، چینلز یا سوشل پلیٹ فارمز کو ان کی کوریج سے روکا جاتا ہے، تنظیم سے وابستہ افراد کی نگرانی، رہنماؤں اور کارکنوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔

فرسٹ شیڈول ری برانڈنگ پر بھی پابندی عائد کی جاسکتی ہے، اگر کالعدم تنظیم کوئی نیا نام اختیار کرے تو وہ بھی خلاف قانون تصور ہوتا ہے، اگر تنظیم اپنی سرگرمیاں جاری رکھتی ہے تو اس کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت نجاب کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی درخواست کی گئی تھی، صوبائی حکومت کی درخواست پر گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کی منظوری دی تھی اور اس کے بعد وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فرسٹ شیڈول میں شیڈول میں شامل کی کالعدم قرار وزارت داخلہ پر پابندی ٹی ایل پی

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • لنکا پریمیئر لیگ میں کئی پاکستانی اسٹارز بھی شامل
  • ملک بھر میں دکانیں، مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس جلد بند کرنے کا نیا شیڈول جاری
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد