دکی میں پوست کی غیر قانونی کاشت پر بڑی کارروائی، 75 زمینداروں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع دُکی میں پوست کی غیرقانونی کاشت کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور محکمہ داخلہ بلوچستان نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 75 زمینداروں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دیے ہیں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق، زمینداروں کے نام ڈپٹی کمشنر دُکی کی سفارش پر فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے۔ اس اقدام کا مقصد پوست کی کاشت کی روک تھام اور انسدادِ منشیات کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: طالبان کی پابندی کے باوجود افغانستان میں پوست کی کاشت میں کئی گنا اضافہ
محکمہ داخلہ بلوچستان نے وضاحت کی ہے کہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی یا تنظیم میں ملوث نہ ہونے کی ضمانت دیں گے۔ یہ ضمانت 5 لاکھ روپے کے سیکیورٹی بانڈ کی صورت میں جمع کرائی جائے گی، جسے ڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او کی ویری فکیشن کے بعد قبول کیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ جب تک کسی زمیندار کا نام فورتھ شیڈول میں شامل رہے گا، اس کی تمام جائیدادیں ضبط تصور کی جائیں گی اور اثاثوں کی جانچ پڑتال کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ذریعے کی جائے گی۔
فورتھ شیڈول میں شامل زمینداروں کو اپنی سفری تفصیلات اور رہائشی ٹھکانوں۔کے بارے میں لیویز اور مقامی پولیس کو پیشگی اطلاع دینا اور اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: صوابی میں 150ایکڑ اراضی پر کاشت پوست کی فصل تلف کر دی گئی
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ زمیندار فورتھ شیڈول میں نام شامل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست بھی دے سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی بلوچستان میں منشیات کی کاشت کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے سلسلے میں ایک اہم پیشرفت تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان پوست ضلع دکی محکمہ داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان پوست ضلع دکی محکمہ داخلہ فورتھ شیڈول میں محکمہ داخلہ پوست کی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔