ایران نے پاکستانی زائرین کیلئے چند شرائط کیساتھ زیارتی ویزہ کھول دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق زیارتی ویزہ صرف کارواں کو دیا جائے گا، جو کم ازکم 15 افراد پر مشتمل ہوگا۔ اس کیساتھ یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ قافلہ سالار کا رجسٹرڈ ہونا بھی لازم ہے۔ قافلہ سالار اسٹمپ پیپر پر بیان حلفی جمع کروائے گا کہ وہ جن افراد کو زیارات کیلئے لیکر جا رہا ہے، ان کی واپسی کا بھی وہ ذمہ دار ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے پاکستانی زائرین کیلئے زیارتی ویزہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم یہ ویزہ چند شرائط کیساتھ فراہم کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق زیارتی ویزہ صرف کارواں کو دیا جائے گا، جو کم ازکم 15 افراد پر مشتمل ہوگا۔ اس کیساتھ یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ قافلہ سالار کا رجسٹرڈ ہونا بھی لازم ہے۔ قافلہ سالار اسٹمپ پیپر پر بیان حلفی جمع کروائے گا کہ وہ جن افراد کو زیارات کیلئے لیکر جا رہا ہے، ان کی واپسی کا بھی وہ ذمہ دار ہوگا۔ ذرائع کے مطابق یہ بھی سالار کی ذمہ داری ہوگی کہ قافلہ میں شامل تمام افراد کی فہرست بنائی جائے گی، جس میں ہر زائر کا نام، پتہ، رابطہ نمبر اور پاسپورٹ نمبر درج ہوگا۔ قافلے میں اگر15 سے کم افراد ہوں گے تو انہیں زیارتی ویزہ نہیں بلکہ سیاحتی ویزہ دیا جائیگا جس کی قیمت زیارتی ویزہ سے زیادہ ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زیارتی ویزہ قافلہ سالار
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔