آنے والے دنوں میں عوام کو مزید خوش خبریاں ملیں گی، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
لاہور:
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے اور آنے والے دنوں میں عوام کو مزید خوش خبریاں ملیں گے اور پاکستان میں مزید انتہا پسندی، نفرت یا انتشارکی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے یہ ملک کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیا، اسلامی نظریات و ناموس رسالت کی جو حفاظت مسلم لیگ( ن) کر سکتی ہے وہ کوئی اور جماعت نہیں کر سکتی،کسی کو مذہب کے نام پر انتشار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا نظریہ پاکستان میں اتحاد، محبت اور یک جہتی کو فروغ دینا ہے، ہمارا مقصد ملک کو جدید معیشت کی طرف لے جانا ہے تاکہ غربت کا خاتمہ ہو اور ہر شہری کو خوش حالی میسر آئے اور جب بھی پاکستان مسلم لیگ (ن)کے حوالے ہوا ہے اس نے ترقی کی ہے، جب چھینا گیا ہے تو یہ کمزور ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بدقسمتی سے جب بھی ہم نے ترقی کا سفر شروع کیا تو اسے سازشوں سے روک دیا گیا، 2022 میں یہ ملک ملا تو دنیا میں شرطیں لگ رہی تھیں کہ چار ہفتے میں پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا لیکن وزیر اعظم شہباز شریف نے 12 جماعتوں کو ساتھ لے کر پاکستان کو بچانے کا تہیہ کیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں سخت فیصلے کرنا پڑے، ملک کے لیے ہم نے اپنی سیاست کی پروا نہیں کی، ہم نے نہ صرف معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ صرف دو سال میں اسے ترقی کی شاہراہ پر ڈال دیا، جو ایک مثالی کامیابی ہے اور پاکستان آج عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہوگیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتی مثبت پالیسیوں کی بدولت 2 سال میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 38 فیصد سے 4 فیصد ہوگئی ہے، شرح سود 23 فیصد سے 11 فیصد پر آگئی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ملک مزید انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، معرکہ ترقی جیتنے کے لیے محنت کرنی ہے، ہم ایک ایسی اڑان اڑ سکتے ہیں کہ پاکستان ترقی کی مثال بن سکتا ہے، بحیثیت قوم ہمیں معرکہ حق کے بعد معرکہ ترقی کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس مٹی کے امن و استحکام کی حفاظت کرنی ہے، ہندوستان اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو بھی ایسا کر رہا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت معاشی ترقی اور خوش حالی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے، اب وقت ہے کہ معرکہ حق کے بعد معرکہ ترقی میں سب اپنا کردار ادا کریں۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں ملک سے ٹیکس چوری ختم کرنی ہوگی، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے ،آئندہ آنے والے دنوں میں عوام کو مزید خوش خبریاں ملیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: احسن اقبال نے کہا کہ نے کہا کہ ہم ترقی کی کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔