data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں اور بعد میں صوبوں کے مکین، صوبوں کے درمیان اتفاقِ رائے ہی پاکستان کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔

بلوچستان ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور بلوچ رہنماؤں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے جو پوری قوم کا قیمتی خزانہ ہیں، مگر افسوس کہ یہ دولت اب بھی زمین میں دفن ہے،  گزشتہ دہائیوں میں بلوچستان کو نظر انداز کرنا ایک قومی کوتاہی اور خود احتسابی کا لمحہ ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بلوچ عوام ہمیشہ کشادہ دل، محب وطن اور مہمان نواز رہے ہیں، دور دراز آبادیوں تک بجلی اور سڑکوں کی فراہمی اب بھی بڑا مسئلہ ہے،  بلوچستان کی تاریخ، ثقافت اور روایات اس صوبے کو دیگر علاقوں سے منفرد بناتی ہیں۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے تاریخی قربانی دی تھی، اُس وقت کے مذاکرات میں انہوں نے نواب رئیسانی کے اُس مطالبے کی حمایت کی تھی جس میں بلوچستان کو سو فیصد حصہ دینے کا تقاضا کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کی اصل روح باہمی تعاون اور بھائی چارے میں پوشیدہ ہے،  صوبے کی جغرافیائی ساخت ترقی کے سفر میں چیلنج بن گئی ہے، مضبوط سڑکوں کے نیٹ ورک کے بغیر تعلیم، صنعت اور تجارت کی ترقی ممکن نہیں۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کا نظریہ آج غیر معمولی آزمائش کا شکار ہے، تاہم پاکستان نے ہمیشہ انصاف اور امن کی بات کی ہے اور بھارت کے جارحانہ رویے کا بھرپور جواب دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی ادارے ہر روز ملک میں امن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں جبکہ کراچی تا چمن شاہراہ پر روزانہ حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں، ساڑھے 300 ارب روپے کے تخمینے سے اس شاہراہ کو دو رویہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ  خونی روڈ  کو امن کی سڑک میں تبدیل کیا جا سکے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اتحاد، محبت اور عزم کے ساتھ بلوچستان سے پشاور تک ترقی ممکن ہے، ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم سب مل کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلوچستان کو نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک

سٹی 42: بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک  ہوئے ۔

 آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے مستونگ، نوشکی، ژوب، خضدار اور کیچ میں آپریشنز کیے گئے ۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 17 دہشتگرد مارے گئے،

ہلاک دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا، دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔ہلاک دہشتگرد متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے،دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بڑی تعداد میں دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ تیار شدہ آئی ای ڈیز بھی دہشتگردوں سے برآمد کر لی گئیں۔علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری کییے ۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 آئی ایس پی آر کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی،ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ