دل کی بھوک اور ایمان کا علاج
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: آئیے، ہم اپنے دلوں کو دنیا کے لالچ سے پاک کریں اور اپنے نفس کو الہیٰ پناہ گاہوں میں لے آئیں۔ مسجد، امام بارگاہ، اور علماء کی مجالس۔ یہی وہ قلعے ہیں، جو انسان کو دنیا کے فریب اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ "جس نے اپنے نفس کو مسجد، امام بارگاہ اور علماء کی صحبت میں پناہ دی، اللہ اسے دنیا کے دھوکے اور آخرت کی ذلت سے نجات عطا فرماتا ہے۔" رپورٹ: آغا زمانی، سکَردو بَلتستان
موضوع: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ" ترجمہ: "اے اللہ۔۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس نفس سے جو کبھی نہیں بھرتا۔"
انسان کی سب سے بڑی جنگ
انسان کی سب سے عظیم جنگ کسی بیرونی دشمن سے نہیں، بلکہ اپنے ہی نفس سے ہے۔ یہی نفس انسان کو جنت کے قریب بھی لے جاتا ہے اور جہنم کے دہانے تک بھی پہنچا دیتا ہے۔ اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اَعدٰی عدوِّکَ نفسُکَ الّتی بین جنبَیْکَ"، "تیرا سب سے بڑا دشمن وہ نفس ہے، جو تیرے اپنے اندر ہے۔" اسی خطرناک دشمن سے بچاؤ کے لیے معصومین علیہم السلام نے یہ دعا سکھائی: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ"، "پروردگار، میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اُس نفس سے جو کبھی سیر نہیں ہوتا۔"
نفس اور خواہش کی حقیقت
اللہ نے انسان کے اندر قوتِ خواہش (Desire) رکھی ہے۔ اگر یہ خواہش حدودِ الہیٰ میں رہے تو عبادت بن جاتی ہے، لیکن اگر یہ بے لگام ہو جائے تو حرص و لالچ میں بدل جاتی ہے۔ ایسا نفس جو دنیا کی دولت، شہرت، عزت اور طاقت سب کچھ پا لینے کے باوجود مزید چاہتا رہے۔ وہی ہے "نفسِ لَا تَشْبَعُ۔" قرآن مجید اسی کیفیت کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتا ہے: "كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ" (العلق: 6-7) "یقیناً انسان سرکشی کرتا ہے، جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگتا ہے۔" یہی حرص انسان کو عبادت سے غافل، دل سے بے سکون اور آخرکار گناہ کے اندھیروں میں مبتلا کر دیتی ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "دو چیزیں انسان کے ساتھ ہمیشہ بڑھتی جاتی ہیں: حرص (لالچ) اور عمر (لمبی زندگی کی آرزو)۔" جب انسان جوان ہوتا ہے تو دنیا کے مال کا حریص ہوتا ہے اور جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو کہتا ہے: "کاش مجھے تھوڑا سا اور وقت مل جائے۔۔ تھوڑا سا اور جمع کر لوں۔۔" عمر گھٹتی رہتی ہے مگر حرص بڑھتی جاتی ہے۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: "حرص ایسی سواری ہے، جو اپنے سوار کو ذلت کی طرف لے جاتی ہے۔"
پناہ کی ضرورت
جیسے انسان طوفان سے بچنے کے لیے مکان بناتا ہے اور دشمن سے بچنے کے لیے قلعہ، اسی طرح روحانی خطرات سے بچنے کے لیے بھی ایک معنوی پناہ گاہ کی ضرورت ہے۔ اسلام نے ہمیں تین عظیم پناہ گاہیں عطا کی ہیں:
1۔ مسجد۔۔ دل کو سکون، آنکھوں کو نور اور روح کو طہارت بخشنے والی جگہ۔ مسجد مومن کا گھر ہے۔
2۔ امام بارگاہ۔۔ جہاں محبتِ اہلِ بیت (ع) کے سائے میں ایمان تازہ ہوتا ہے اور نفس کی تربیت کا سامان میسر آتا ہے۔
3۔ علما و صالحین کی صحبت۔۔ جو دلوں کا آئینہ ہے، ان کی مجلس میں بیٹھنا انسان کو اپنی باطنی خامیاں دکھاتا ہے، دل کو نرم اور روح کو زندہ کرتا ہے۔
قناعت۔۔ نفس کا علاج
حرص و لالچ کا واحد علاج قناعت ہے۔ قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کچھ نہ چاہے، بلکہ یہ کہ جو کچھ اللہ نے عطا کیا ہے، اُس پر شکر کرے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "جو تھوڑے پر راضی ہو جائے، دنیا خود اُس کے سامنے جھک جاتی ہے۔" جو دل قناعت سے بھر جائے، اس کی زندگی میں سکون اور اطمینان آجاتا ہے اور جو قناعت سے خالی ہو، اس کے اندر ہمیشہ جلتی ہوئی آگ رہتی ہے۔
اختتامی پیغام
آئیے، ہم اپنے دلوں کو دنیا کے لالچ سے پاک کریں اور اپنے نفس کو الہیٰ پناہ گاہوں میں لے آئیں۔ مسجد، امام بارگاہ، اور علماء کی مجالس۔ یہی وہ قلعے ہیں، جو انسان کو دنیا کے فریب اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ "جس نے اپنے نفس کو مسجد، امام بارگاہ اور علماء کی صحبت میں پناہ دی، اللہ اسے دنیا کے دھوکے اور آخرت کی ذلت سے نجات عطا فرماتا ہے۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور علماء کی امام بارگاہ اپنے نفس کو اور آخرت کی کو دنیا کے نے فرمایا انسان کو جاتی ہے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔