Islam Times:
2026-07-24@11:14:02 GMT

دل کی بھوک اور ایمان کا علاج

اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT

دل کی بھوک اور ایمان کا علاج

اسلام ٹائمز: آئیے، ہم اپنے دلوں کو دنیا کے لالچ سے پاک کریں اور اپنے نفس کو الہیٰ پناہ گاہوں میں لے آئیں۔ مسجد، امام بارگاہ، اور علماء کی مجالس۔ یہی وہ قلعے ہیں، جو انسان کو دنیا کے فریب اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ "جس نے اپنے نفس کو مسجد، امام بارگاہ اور علماء کی صحبت میں پناہ دی، اللہ اسے دنیا کے دھوکے اور آخرت کی ذلت سے نجات عطا فرماتا ہے۔" رپورٹ: آغا زمانی، سکَردو بَلتستان 

موضوع: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ" ترجمہ: "اے اللہ۔۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس نفس سے جو کبھی نہیں بھرتا۔"

انسان کی سب سے بڑی جنگ
انسان کی سب سے عظیم جنگ کسی بیرونی دشمن سے نہیں، بلکہ اپنے ہی نفس سے ہے۔ یہی نفس انسان کو جنت کے قریب بھی لے جاتا ہے اور جہنم کے دہانے تک بھی پہنچا دیتا ہے۔ اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اَعدٰی عدوِّکَ نفسُکَ الّتی بین جنبَیْکَ"، "تیرا سب سے بڑا دشمن وہ نفس ہے، جو تیرے اپنے اندر ہے۔" اسی خطرناک دشمن سے بچاؤ کے لیے معصومین علیہم السلام نے یہ دعا سکھائی: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ"، "پروردگار، میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اُس نفس سے جو کبھی سیر نہیں ہوتا۔"

نفس اور خواہش کی حقیقت
اللہ نے انسان کے اندر قوتِ خواہش (Desire) رکھی ہے۔ اگر یہ خواہش حدودِ الہیٰ میں رہے تو عبادت بن جاتی ہے، لیکن اگر یہ بے لگام ہو جائے تو حرص و لالچ میں بدل جاتی ہے۔ ایسا نفس جو دنیا کی دولت، شہرت، عزت اور طاقت سب کچھ پا لینے کے باوجود مزید چاہتا رہے۔ وہی ہے "نفسِ لَا تَشْبَعُ۔" قرآن مجید اسی کیفیت کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتا ہے: "كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ" (العلق: 6-7) "یقیناً انسان سرکشی کرتا ہے، جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگتا ہے۔" یہی حرص انسان کو عبادت سے غافل، دل سے بے سکون اور آخرکار گناہ کے اندھیروں میں مبتلا کر دیتی ہے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "دو چیزیں انسان کے ساتھ ہمیشہ بڑھتی جاتی ہیں: حرص (لالچ) اور عمر (لمبی زندگی کی آرزو)۔" جب انسان جوان ہوتا ہے تو دنیا کے مال کا حریص ہوتا ہے اور جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو کہتا ہے: "کاش مجھے تھوڑا سا اور وقت مل جائے۔۔ تھوڑا سا اور جمع کر لوں۔۔" عمر گھٹتی رہتی ہے مگر حرص بڑھتی جاتی ہے۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: "حرص ایسی سواری ہے، جو اپنے سوار کو ذلت کی طرف لے جاتی ہے۔"

پناہ کی ضرورت
جیسے انسان طوفان سے بچنے کے لیے مکان بناتا ہے اور دشمن سے بچنے کے لیے قلعہ، اسی طرح روحانی خطرات سے بچنے کے لیے بھی ایک معنوی پناہ گاہ کی ضرورت ہے۔ اسلام نے ہمیں تین عظیم پناہ گاہیں عطا کی ہیں:
1۔ مسجد۔۔ دل کو سکون، آنکھوں کو نور اور روح کو طہارت بخشنے والی جگہ۔ مسجد مومن کا گھر ہے۔
2۔ امام بارگاہ۔۔ جہاں محبتِ اہلِ بیت (ع) کے سائے میں ایمان تازہ ہوتا ہے اور نفس کی تربیت کا سامان میسر آتا ہے۔
3۔ علما و صالحین کی صحبت۔۔ جو دلوں کا آئینہ ہے، ان کی مجلس میں بیٹھنا انسان کو اپنی باطنی خامیاں دکھاتا ہے، دل کو نرم اور روح کو زندہ کرتا ہے۔

قناعت۔۔ نفس کا علاج
حرص و لالچ کا واحد علاج قناعت ہے۔ قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کچھ نہ چاہے، بلکہ یہ کہ جو کچھ اللہ نے عطا کیا ہے، اُس پر شکر کرے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "جو تھوڑے پر راضی ہو جائے، دنیا خود اُس کے سامنے جھک جاتی ہے۔" جو دل قناعت سے بھر جائے، اس کی زندگی میں سکون اور اطمینان آجاتا ہے اور جو قناعت سے خالی ہو، اس کے اندر ہمیشہ جلتی ہوئی آگ رہتی ہے۔

اختتامی پیغام
آئیے، ہم اپنے دلوں کو دنیا کے لالچ سے پاک کریں اور اپنے نفس کو الہیٰ پناہ گاہوں میں لے آئیں۔ مسجد، امام بارگاہ، اور علماء کی مجالس۔ یہی وہ قلعے ہیں، جو انسان کو دنیا کے فریب اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ "جس نے اپنے نفس کو مسجد، امام بارگاہ اور علماء کی صحبت میں پناہ دی، اللہ اسے دنیا کے دھوکے اور آخرت کی ذلت سے نجات عطا فرماتا ہے۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور علماء کی امام بارگاہ اپنے نفس کو اور آخرت کی کو دنیا کے نے فرمایا انسان کو جاتی ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی