ڈی جی آئی ایس پی آر نے میرے خلاف پشاور آکر پریس کانفرنس کی، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
کرک میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ میرے خلاف گھٹیا لہجہ استعمال ہوا، انتہائی بد تمیزی کی گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پشاور آکر پریس کانفرنس کی، وفاقی وزراء نے غلیظ اور گھٹیا الزامات لگائے، میں نے مہذب طریقے سے ان کے الزامت کا جواب دیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پشاور آکر پریس کانفرنس کی، وفاقی وزراء نے غلیظ اور گھٹیا الزامات لگائے۔ کرک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں سب کو سلام کہتا ہوں کرک والوں پشتونوں کی تاریخ بدلے گی انشاء اللہ، جس مقصد کے لیے جلسہ اور جرگے بلائے ہیں اس پر بات کرینگے، بانی پی ٹی آئی نے میرا نام جب لیا تو کچھ لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا، پہلے ہمیں اس ایوان کا حصہ نہیں بننے نہیں دیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے جس کے ساتھ بھٹو اور شریف جیسے الفاظ تھے، وہ صرف ایوان تک آتے تھے، مجھ پر الزامات لگائے گئے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ میرے خلاف گھٹیا لہجہ استعمال ہوا، انتہائی بد تمیزی کی گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پشاور آکر پریس کانفرنس کی، وفاقی وزراء نے غلیظ اور گھٹیا الزامات لگائے، میں نے مہذب طریقے سے ان کے الزامت کا جواب دیا۔
وزیر اعلی نے کہا کہ ہوم ڈیپاٹمنٹ نے خط لکھا اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات کروائیں، وزیر اعظم سے بانی سے ملاقات کراںے کا کہا لیکن انہوں نے کہا کہ پوچھ کر بتاتا ہوں، پھر میں نے وزیر اعظم سے میٹنگ کے لیے کہا کہ میں بانی سے پوچھ کر بتاتا ہوں، مجھ کو ناکام کرنے کی کوشش کرینگے، میرے اعصاب مضبوط ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم دلیر ہیں، ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں، ان کے بڑے بڑے بابے نے کیا تیر مارا ہے، یہ نوجوان ڈلیور کرے گا، میں 36 سال کا ہوں، میں ڈلیور کرونگا، آپ باہر ملکوں میں فلیٹ خریدیں گے، آپ نہیں ڈلیور کرسکتے ہم ڈلیور کرکے رہنگے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن لے کر رہیںگے، پولیس کے لیے جدید اسلحہ خریدنگے، بلٹ پروف گاڑیاں خریدنگے، پولیس، اسپیشل برنچ، انٹلی جنس اور اس پر انوسٹ کرینگے، گوڈ گورننس ضروری یے خیبر پختونخوا کے 4 ریجن کے لیے پیکج کا اعلان جلد کرینگے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کے ویژن کے مطابق کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے، تمام سرکاری ملازمین عوام کے نوکر ہیں، میرے پروٹوکول کے لیے راستہ بند نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں یہ جوش دیکھ لیں، انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن پاکستان تحریک انصاف کے لیے لیڈرشپ دے رہی ہیں، کرک کے لیے اسکالرشپ دینگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پشاور ا کر پریس کانفرنس کی ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر نے الزامات لگائے فریدی نے کہا سہیل ا فریدی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔