مجھے کوئی ڈرا نہیں سکتا، ہم ڈلیور کرکے دکھائیں گے: وزیراعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ کسی کے دباؤ یا دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور اپنی کارکردگی کے ذریعے ثابت کریں گے کہ ان کی حکومت عوامی توقعات پر پورا اترے گی۔ کرک میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ جب عمران خان نے وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے ان کا نام تجویز کیا تو وہ لوگ شور مچانے لگے جو نوجوان قیادت کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج خیبرپختونخوا میں حکومت واقعی عوام کی ہے، اور وہ صوبے کے نوجوانوں کو قیادت میں فعال کردار دینے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ اڈیالہ جیل گئے تو اسی وقت وزیراعظم کی کال موصول ہوئی، جنہوں نے انہیں وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر مبارک باد دی۔ سہیل آفریدی کے مطابق انہوں نے وزیراعظم سے اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کے انتظامات کرنے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر فیصلے میں اپنے قائد کے مشورے کو اہمیت دیتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ان پر بے بنیاد الزامات لگانے والوں کو عوامی خدمت سے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو مزید بہتر کیا جائے گا، امن و امان کے ساتھ ساتھ اچھی حکمرانی اور ترقی پر توجہ دی جائے گی، اور ضم شدہ اضلاع میں سرمایہ کاری بڑھا کر وہاں کے عوام کو ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ