خیبرپختونخوا میں ان ہاؤس تبدیلی سامنے نظر آئے گی، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-1-2
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پی ٹی آئی کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگنے کی دیر ہے ان ہاؤس تبدیلی سامنے نظر آئے گی۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس رات علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ سے ہٹایا گیا اس رات کے پی ہاؤس میں 30 سے 35 ایم پی ایز انہیں یہ کہہ رہے تھے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں آپ استعفامت دیں۔ اب گورنر راج لگنے کی دیر ہے تو ان ہاؤس تبدیلی سامنے نظر آئے گی کیوں کہ جس سیاست پر اب یہ چلے گئے ہیں یہ تعداد 35 سے بڑھ جائے گی۔شیر افضل مروت کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جو معاملات ہیں اور پی ٹی آئی کی جو قیادت بنی ہوئی ہے یہ قیادت ہے نہیں، جو ڈی چوک کے نعرے لگا رہے تھے وہ اب کوہاٹ پہنچ گئے ہیں۔ میڈیا جیل کے سامنے جائے گا ،میں دیکھ رہا ہوں منگل کو عمران خان کی بہنیں بھی اڈیالہ جیل نہیں جائیں گی، یہ کوئی حکمت عملی نہیں ہے بلکہ ان کے ڈر کا حصہ ہے کیوں کہ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ کوئی آئے گا تو دیکھیں گے، اس لیے کوئی جائے گا ہی نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔