صبا قمر کا کراچی سے متعلق بیان سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
معروف اداکارہ صبا قمر اپنے ایک حالیہ بیان کے باعث سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید کی زد میں آگئی ہیں۔ایک پوڈکاسٹ کے دوران میزبان نے صبا قمر سے سوال کیا کہ کیا وہ کام کے سلسلے میں کراچی منتقل ہونے کے لیے تیار ہیں؟
اس پر اداکارہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیااستغفراللہ، کبھی نہیں… لیکن شاید یہ نہیں کہنا چاہیے، کیونکہ مستقبل کا کچھ پتا نہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف کام کے سلسلے میں کراچی جاتی ہیں اور شوٹنگ مکمل ہوتے ہی واپس آجاتی ہیں۔ صبا قمر کا کہنا تھا کہ انہیںلاہور اور اسلام آباد میں رہنا زیادہ پسند ہے کیونکہ وہ کھلے گھروں، لان اور قدرتی فضا کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ کراچی میں زیادہ تر اپارٹمنٹس کا رجحان ہے جو انہیں پسند نہیں۔
اداکارہ کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔
کئی صارفین نے صبا قمر کے بیان کو کراچی کے خلاف توہین آمیز قرار دیا، جبکہ کچھ نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی پسند اور طرزِ زندگی کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔
بعض صارفین نے یہ بھی لکھا کہ “کراچی وہ شہر ہے جہاں سب آ کر روزی کماتے ہیں، مگر اکثر لوگ اسی شہر کے بارے میں منفی باتیں کرتے ہیں۔
دوسری جانب، صبا قمر کے مداحوں کا کہنا ہے کہ اداکارہ کا مقصد کسی شہر کی تضحیک نہیں بلکہ صرف اپنی ذاتی ترجیحات بیان کرنا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔