انسٹاگرام سے تمام پوسٹس ڈیلیٹ کیوں کیں، علیزے شاہ نے خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
معروف اداکارہ علیزے شاہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے تمام تصاویر اور پوسٹس ڈیلیٹ کر دی ہیں۔ جس کی وجہ بتاتے ہوئے اداکارہ نے کہا انہوں نے یہ اقدام ذہنی دباؤ کی وجہ سے اٹھایا ہے۔
اداکارہ نے جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ پوسٹس ڈیلیٹ کرنے کے بعد میں خوش بھی ہوں اور شرمندہ بھی، انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے نہیں جانتی تھیں کہ وہ اپنی زندگی میں کیا کر رہی ہیں۔ خود کو نہیں سمجھتی تھی۔ جو کچھ میں پوسٹ کرتی تھی۔
View this post on Instagram
A post shared by Showbiz Spy (@showbizspy_)
علیزے شاہ نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ میں کب واپس آؤں گی لیکن نہ وہ تصاویر واپس آئیں گی اور نہ وہ علیزے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب علیزے شاہ نے اپنی ذہنی صحت کے بارے میں کھل کر بات کی ہو۔ اس سے قبل ایک ویڈیو میں اداکارہ نے انکشاف کیا تھا کہ وہ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) یعنی صدمے کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں، جو انہیں شوبز انڈسٹری کے منفی تجربات کے باعث ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ’کوئی سرجری نہیں کرائی، مجھے بخش دیں‘، علیزے شاہ برہم
انہوں نے کہا کہ ان تجربات نے انہیں ذہنی طور پر بہت تھکا دیا اور وہ خود سے نفرت کرنے لگیں کہ وہ اس انڈسٹری کا حصہ کیوں بنیں۔ علیزے نے اعتراف کیا، ’جو کچھ میں نے جھیلا، اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ میں نے یہ شعبہ اختیار ہی کیوں کیا‘۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب علیزے شاہ نے اپنی ڈیجیٹل موجودگی مٹا دی ہو۔ انہوں نے اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ایسا کیا — ایک بار گزشتہ سال ستمبر میں اور دوسری بار اس سال اپریل میں۔ تاہم اب انہوں نے واضح کیا ہے کہ پرانی علیزے اور پرانی تصاویر اب واپس نہیں آئیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
علیزے شاہ علیزے شاہ تصاویر علیزے شاہ تنقید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: علیزے شاہ علیزے شاہ تصاویر علیزے شاہ تنقید علیزے شاہ نے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔