معروف اداکارہ علیزے شاہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے تمام تصاویر اور پوسٹس ڈیلیٹ کر دی ہیں۔ جس کی وجہ بتاتے ہوئے اداکارہ نے کہا انہوں نے یہ اقدام ذہنی دباؤ کی وجہ سے اٹھایا ہے۔

اداکارہ نے جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ پوسٹس ڈیلیٹ کرنے کے بعد میں خوش بھی ہوں اور شرمندہ بھی، انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے نہیں جانتی تھیں کہ وہ اپنی زندگی میں کیا کر رہی ہیں۔ خود کو نہیں سمجھتی تھی۔ جو کچھ میں پوسٹ کرتی تھی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Showbiz Spy (@showbizspy_)

علیزے شاہ نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ میں کب واپس آؤں گی لیکن نہ وہ تصاویر واپس آئیں گی اور نہ وہ علیزے۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب علیزے شاہ نے اپنی ذہنی صحت کے بارے میں کھل کر بات کی ہو۔ اس سے قبل ایک ویڈیو میں اداکارہ نے انکشاف کیا تھا کہ وہ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) یعنی صدمے کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں، جو انہیں شوبز انڈسٹری کے منفی تجربات کے باعث ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ’کوئی سرجری نہیں کرائی، مجھے بخش دیں‘، علیزے شاہ برہم

انہوں نے کہا کہ ان تجربات نے انہیں ذہنی طور پر بہت تھکا دیا اور وہ خود سے نفرت کرنے لگیں کہ وہ اس انڈسٹری کا حصہ کیوں بنیں۔ علیزے نے اعتراف کیا، ’جو کچھ میں نے جھیلا، اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ میں نے یہ شعبہ اختیار ہی کیوں کیا‘۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب علیزے شاہ نے اپنی ڈیجیٹل موجودگی مٹا دی ہو۔ انہوں نے اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ایسا کیا — ایک بار گزشتہ سال ستمبر میں اور دوسری بار اس سال اپریل میں۔ تاہم اب انہوں نے واضح کیا ہے کہ پرانی علیزے اور پرانی تصاویر اب واپس نہیں آئیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

علیزے شاہ علیزے شاہ تصاویر علیزے شاہ تنقید.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: علیزے شاہ علیزے شاہ تصاویر علیزے شاہ تنقید علیزے شاہ نے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا