نمبر گیم پوری ہے تو عدم اعتماد کیوں نہیں لاتے؟ وزیراعظم آزاد کشمیر انوارالحق کا مخالفین کو پیغام
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ اگر مجھے وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے لیے کسی کے پاس نمبر گیم پوری ہے تو پھر تحریک عدم اعتماد کیوں نہیں لاتے؟
مظفرآباد میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ اسلام آباد میں بیٹھ کر خود ہی میری پریس کانفرنس بلاتے ہیں اور خود ہی ملتوی کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جب تک میرے پاس قلم کا اختیار ہے، میں اپنے فرائض سرانجام دیتا رہوں گا، عدم اعتماد جمہوریت کا حسن ہے، جس کا سامنا کروں گا۔
انہوں نے کہاکہ میری قدر میرے جانے کے بعد آئے گی، جس گھر نے مجھے جنم دیا، اپنی خاطر اس کو آگ نہیں لگا سکتا۔
چوہدری انوارالحق نے کہاکہ میرے چہرے پر کوئی ندامت دکھائی نہیں دے گی، میں اکیلا آیا تھا، آج دوستوں میں کھڑا ہوں۔
وزیراعظم نے کہاکہ میں واحد وزیراعظم ہوں جس نے خزانہ بھرا خالی نہیں کیا، جلد پریس کانفرنس کروں گا جس میں تفصیلی بات ہو گی۔
انہوں نے کہاکہ میں اپنی کارکردگی پر مطمئن ہوں، اللہ نے مجھے کامیاب کیا، اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم کے ہمراہ وزیر داخلہ کرنل وقار نور، وزیر صحت انصر ابدالی اور وزیر حکومت اظہرصادق موجود ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نے کہاکہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔