غزہ میں پاکستانی فوجی دستے کی تعیناتی کا اشارہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
غزہ میں تعینات بین الاقوامی فورس میں پاکستان کے فوجی دستے شامل ہوسکتے ہیں، اسرائیلی اخبار
گزشتہ ہفتے اسرائیل کی خارجہ و دفاعی امور کمیٹی کو بند کمرہ اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں انکشاف
اسرائیلی اخبار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس میں پاکستان کی فوجی دستے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی دفاعی حکام نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ غزہ میں 2 سالہ جنگ کے بعد استحکام قائم کرنے کے لیے تشکیل دی جانے والی بین الاقوامی فورس میں پاکستان کے فوجی دستے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔اسرائیلی ویب سائٹ ’وائی نیٹ نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے اسرائیلی کینیسٹ کی خارجہ و دفاعی امور کمیٹی کو بند کمرہ اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس بین الاقوامی فورس میں انڈونیشیا، آذربائیجان اور پاکستان کے فوجی شامل ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا پہلے ہی اس مشن کے لیے اپنی فوج بھیجنے کی پیشکش کر چکا ہے جبکہ اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق آذربائیجان نے بھی اپنے فوجی فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی فوجیوں کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں اب تک باضابطہ طور پر کوئی اعلان یا عوامی سطح پر تذکرہ نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے غزہ میں پاکستانی افواج کی تعیناتی کے حوالے سے کہا تھا کہ اس بارے میں وزارت خارجہ جواب دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بین الاقوامی فورس میں اسرائیلی اخبار میں پاکستان فوجی دستے کے مطابق
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔