data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

 

غزہ تل ابیب (خبر ایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک) دو سالہ جنگ کے بعد غزہ میں استحکام قائم کرنے کی غرض سے تشکیل دی جانے والی بین الاقوامی فورس میں پاکستانی فوجی دستے بھی شامل ہوسکتے ہیں، جس کا اعلان اسرائیلی اخبار دی ٹائم نے کیا ہے۔ ترکی، مصر، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک سے مذاکرات جاری ہیں، لیکن نیتن یاہو  نے واضح کیا ہے کہ فورس میں شامل ہونے والی افواج کا انتخاب اسرائیل خود کرے گا، اور ترک فوجیوں کی شرکت مسترد کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انڈونیشیا نے پہلے ہی فوج بھیجنے کی پیشکش کی ہے، اور آذربائیجان نے شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ پاکستان کی ممکنہ شمولیت کا سرکاری اعلان نہیں ہوا ہے۔ اس فورس کا مقصد غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم، منظم پولیس فورس کی تربیت اور تشدد کے دوبارہ ابھرنے کی روک تھام ہے۔ اس موقع پر اسرائیل نے زور دیا ہے کہ وہ اپنی سیکورٹی خود کنٹرول کرے گا اور اس میں غیر ملکی فوجیوں کی شمولیت اپنی مرضی کے مطابق طے کرے گا۔  اس اقدام کے پیچھے یہ حکمت عملی ہے کہ فوجی علحدگی کے بعد غزہ میں استحکام اور اطاعت کا نیا نظام قائم کیا جائے، جس میں مقامی اور بین الاقوامی انتظامیہ دونوں کی شراکت ہوگی۔ دوسری جانب اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کی کوششیں تیز،ریڈ کراس نے حماس کے ساتھ کام شروع کردیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کیلئے مصری ٹیم بھی بھاری مشینری کیساتھ پہنچ گئی ،ترجمان اسرائیلی حکومت نے کہا کہ ریڈ کراس اورمصری ٹیموں کویلو لائن سے آگے جانے کی اجازت دی گئی۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکہتے ہیں غزہ میں بین الاقوامی فورسزکی تعیناتی اسرائیل کی مرضی سے ہوگی،صرف ان ممالک کی افواج تعینات ہونگی جوہمیں منظور ہونگے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق امن فورس میں پاکستان، آذربائیجان اور انڈونیشیا کے فوجی شامل ہوسکتے ہیں۔

خبر ایجنسی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق فورس میں

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل