data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، کیونکہ پارٹی کے متعدد سینئر رہنماؤں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے حالیہ جارحانہ بیانات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے بیانات نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ ایسا رویہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ جن رہنماؤں نے تحفظات ظاہر کیے ہیں، ان میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور، سینیٹر شبلی فراز اور شیخ وقاص اکرم شامل ہیں۔ ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اشتعال انگیز اور محاذ آرائی پر مبنی بیانات نہ صرف پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ حکومت کے استحکام کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈا پور نے اندرونی اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی صدر کے غیر محتاط بیانات پارٹی کی واحد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں ایسی حکمت عملی اپنانا چاہیے جو صوبائی حکومت کو بچانے اور اسے مضبوط بنانے میں مدد دے، نہ کہ اسے غیر مستحکم کرے۔”

دوسری جانب، پارٹی کے دیگر اہم رہنماؤں — بیرسٹر گوہر علی خان، شبلی فراز اور شیخ وقاص اکرم — نے بھی اسی مؤقف کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ مقتدر حلقوں کے خلاف محاذ آرائی کی پالیسی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اس طرزِ عمل سے پارٹی اور حکومت کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ اگر پارٹی رہنما اسی انداز میں بیانات دیتے رہے تو ملک میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، اور 9 مئی جیسے حالات دوبارہ جنم لے سکتے ہیں، جس سے پارٹی قیادت ہر ممکن طور پر گریز چاہتی ہے۔

ویب ڈیسک شیخ یاسین.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی حکومت کے پارٹی کے پارٹی کی سکتے ہیں

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان