آزاد کشمیر میں حکومت کی ممکنہ تبدیلی نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا اس پیش رفت کے اثرات وفاقی سیاست پر بھی پڑیں گے؟ اگرچہ بظاہر یہ معاملہ علاقائی نوعیت کا ہے، لیکن اسلام آباد کے سیاسی منظرنامے میں اسے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

سینیئر تجزیہ کاروں کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ اس تبدیلی سے وفاقی سیاست یا حکومت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا، البتہ آزاد کشمیر کی اندرونی سیاست میں ہلچل ضرور پیدا ہوگی۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر حکومتی تبدیلی: ن لیگ کا تحریک عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کا اعلان

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ ن کے آزاد کشمیر میں اپوزیشن میں بیٹھنے اور نئی حکومت کی تشکیل سے وفاق میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی سے پیپلز پارٹی اور مسلم ن کے اتحاد کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کو ایک چھوٹی سی چاکلیٹ دی جارہی ہے، حامد میر

سینیئر تجزیہ کار حامد میر نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اسے آزاد کشمیر میں چوہدری انوارالحق کی حمایت کرکے بدنامی کے سوا کچھ نہیں ملا، اب جب پیپلز پارٹی کو وزارتِ عظمیٰ دی جا رہی ہے تو یہ محض ایک علامتی اقدام ہے، کیونکہ اسمبلی کی مدت میں صرف چند ماہ ماہ باقی رہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ ایک چھوٹی سی چاکلیٹ دی جا رہی ہے تاکہ پیپلز پارٹی کو وقتی خوشی مل جائے، لیکن عملی طور پر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

حامد میر نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے پاس آزاد کشمیر اسمبلی میں اکثریت نہیں، اس لیے روایتی طریقے کے ذریعے وفاداریاں تبدیل کروا کر لوگوں کو ساتھ ملانا پڑےگا۔

ان کے مطابق یہ حکومت اگر بن بھی گئی تو اس کی کابینہ 20 سے زیادہ نہیں ہو سکتی، کیونکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے میں عیاشیوں اور فضول خرچیوں کو روکنے کی شق شامل کی گئی ہے۔ ایسے میں سب کو خوش کرنا ممکن نہیں، نتیجتاً حکومت مذاق بن کر رہ جائے گی۔

آزاد کشمیر میں حکومتی تبدیلی کا ملکی سیاست پر اثر نہیں پڑےگا، انصار عباسی

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی نے کہاکہ آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی سے وفاقی حکومت یا ملکی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، پیپلز پارٹی اگر اپنا وزیراعظم لے بھی آتی ہے تو ن لیگ اس کی مخالفت نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت پر اس معاملے کا کوئی دباؤ نہیں ہے، مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی پیپلز پارٹی سے مشاورت ہوئی ہے، جس کے بعد یہ مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

انصار عباسی نے کہاکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات ماضی میں بھی ہوتے رہے لیکن وفاقی سطح پر کوئی بحران پیدا نہیں ہوا، جس وقت پنجاب اور سندھ حکومت اور مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری ایک دوسرے پر تنقید کر رہے تھے اس وقت بھی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت سے علیحدگی کی باتیں کی جا رہی تھیں لیکن ایسا کبھ نہیں ہوا، یہ سب وقتی سیاسی حرکات ہیں، کوئی بھی بڑی تبدیلی فی الحال ہوتی نظر آ نہیں رہی۔

’ایکشن کمیٹی کی تحریک نے انوارالحق حکومت کے لیے مشکلات پیدا کیں‘

واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ تحریک کے باعث آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی افراتفری کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے معاملے پر غور کیا گیا۔

آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم چوہدری انوارالحق کا تعلق پی ٹی آئی فارورڈ بلاک سے ہے، جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی حکومت کا حصہ ہیں، جس کے باعث اپوزیشن کا وجود ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کا نیا وزیراعظم کون ہوگا؟ قمرزمان کائرہ نے بتادیا

اب پالیسی سازوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں کسی ایک سیاسی جماعت کی حکومت بنا کر دوسرے نمبر والی جماعت کو اپوزیشن بینچوں پر بٹھایا جائے، تاکہ عوام کو مطمئن رکھا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اثرات تحریک عدم اعتماد چوہدری انوارالحق ملکی سیاست ن لیگ پیپلز پارٹی اتحاد وزیراعظم آزاد کشمیر وفاق وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اثرات تحریک عدم اعتماد چوہدری انوارالحق ملکی سیاست ن لیگ پیپلز پارٹی اتحاد وفاق وی نیوز زاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن نے کہاکہ ہے کہ ا

پڑھیں:

جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا

جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

جد ہ (خالد نواز چیمہ )قونصل خانہ جنرل پاکستان، جدہ میں ڈپٹی قونصل جنرل کے عہدے پر اہم انتظامی تبدیلی عمل میں آ گئی ہے۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے محترمہ فرینہ ارشد کو ڈپٹی قونصل جنرل، جدہ تعینات کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر سنبھال لی ہیں۔

محترمہ فرینہ ارشد ایک سینئر اور تجربہ کار کیریئر سفارت کار ہیں، جنہیں سفارتی خدمات کا پندرہ سال سے زائد کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران وہ مختلف اہم سفارتی اور انتظامی ذمہ داریوں پر خدمات انجام دے چکی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کے باعث وزارتِ خارجہ کے ممتاز افسران میں شمار ہوتی ہیں۔

قونصل خانہ جنرل پاکستان، جدہ کی جانب سے محترمہ فرینہ ارشد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا گیا ہے۔ قونصل خانے نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت، تجربے اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کو فراہم کی جانے والی قونصلر خدمات کو مزید مثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔

دوسری جانب، سابق ڈپٹی قونصل جنرل محترمہ سعدیہ وقار النسا کو فوری طور پر پاکستان واپس رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے دورِ تعیناتی کے دوران پاکستانی کمیونٹی کی خدمت، قونصلر امور اور عوامی مسائل کے حل کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں، جنہیں کمیونٹی کی جانب سے سراہا گیا۔

واضح رہے کہ قونصل خانہ جنرل پاکستان، جدہ میں ڈپٹی قونصل جنرل کا منصب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس عہدے پر تعینات افسر سعودی عرب کے مغربی ریجن میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو قونصلر خدمات کی فراہمی، کمیونٹی ویلفیئر، عوامی رابطوں اور پاکستان و سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ اگلی خبرامریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع