کوئٹہ؛ خاتون ٹیچر کے قتل کا مرکزی ملزم زخمی حالت میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
کوئٹہ پولیس کے سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ (SCIW) نے خاتون ٹیچر مریم شاہوانی کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم اویس ولد موسیٰ محمد حسنی کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق اویس 17 سالہ مریم شاہوانی کے قتل کیس میں مطلوب تھا۔ مریم شاہوانی کو 16 اکتوبر کو منوجان روڈ پر گھر کے قریب دو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔ مقدمہ تھانہ صدر میں درج ہونے کے بعد مزید تفتیش کے لیے کیس SCIW کو منتقل کیا گیا۔
ایس ایس پی عمران قریشی کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی ٹیم نے جدید تفتیشی طریقے، ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی۔ ابتدائی کارروائی میں ملزم محمد جہانزیب ولد محمد حنیف کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ مرکزی مفرور ملزم اویس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے تھے۔
پولیس کے مطابق گزشتہ رات کلی برات میں اویس کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ چھاپے کے دوران ملزم اور اس کے ساتھی نے پولیس پر فائرنگ کی، جس میں اویس اپنے ساتھی کی گولی سے زخمی ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ زخمی اویس کو گرفتار کر کے سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ عوامی حلقوں نے پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا اور کہا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی عزم اور عتیق سے کام جاری رکھیں تو شہر میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے قتل
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔