Jasarat News:
2026-06-03@08:12:46 GMT

پروازیں بحال، مگر پی آئی اے کے دشمن محفوظ

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251029-03-3

 

عبید مغل

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی

بالآخر وہ لمحہ آ ہی گیا جس کا انتظار ہزاروں برطانوی پاکستانیوں نے برسوں تک کیا۔ پانچ سال بعد جب پی آئی اے کی مانچسٹر کے لیے پرواز اٹھی تو جذبات اور خوشی کے ساتھ ایک تلخ احساس بھی دل میں جاگا، وہ احساس جو یاد دلاتا ہے کہ ایک وزیر کے چند غیر ذمے دارانہ جملوں نے پوری قوم کے وقار کو خاک میں ملا دیا تھا۔ یہ کہانی محض پروازوں کی معطلی کی نہیں، بلکہ ریاستی ناپختگی، سیاسی نادانی، اور بین الاقوامی گٹھ جوڑ کی ایک افسوسناک داستان ہے۔ یہ آغاز ہوا 24 مئی 2020 کو، جب پی آئی اے کی فلائٹ PK-8303 کراچی میں گر کر تباہ ہوئی۔ قوم ابھی سوگ میں تھی کہ 25 جون کو اْس وقت کے وفاقی وزیر ِ ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر اعلان کیا: ’’ہمارے ملک کے تقریباً 262 پائلٹوں کے لائسنس جعلی یا مشکوک ہیں‘‘۔ یہ جملہ پاکستان کے لیے کسی بم سے کم نہ تھا۔ بولنے والا وفاقی وزیر تھا، لہٰذا دنیا بھر کے ہوابازی اداروں نے اسے حکومت ِ پاکستان کی باضابطہ تصدیق سمجھا۔ چند گھنٹوں میں پاکستان کا ہوا بازی نظام مشکوک ٹھیر گیا۔

یورپی یونین نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگا دی، برطانیہ اور امریکا نے پاکستانی پائلٹس کے لائسنس مسترد کر دیے، اور خلیجی ممالک نے ازسرِنو جانچ شروع کر دی۔ چند منٹ کے غیر محتاط الفاظ نے اْس ادارے کو زمین پر گرا دیا جو کبھی ایشیا کی فخر ِ ائرلائن کہلاتی تھی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ چند درجن لائسنسوں میں انتظامی نوعیت کی بے ضابطگیاں تھیں، مگر نقصان قومی وقار کو ہوا۔ پی آئی اے اربوں کے خسارے میں چلی گئی، اور قوم کا اعتماد بین الاقوامی سطح پر مجروح ہوا۔ دنیا کے باشعور ممالک اپنے اداروں کے قصور چھپاتے نہیں، مگر عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہیں۔ امریکا میں بوئنگ 737 میکس کے حادثات میں سیکڑوں جانیں گئیں، مگر حکومت نے خاموشی سے اصلاحات کیں، کسی وزیر نے ایوان میں قوم کی عزت نیلام نہیں کی۔ بھارت میں ’’ائر انڈیا‘‘ اور ’’انڈی گو‘‘ کے درجنوں حادثات ہوئے، مگر وہاں کے وزراء نے ذمے داری سے بات کی؟ ملائشیا کے MH370 سانحے کے بعد بھی ریاست نے وقار بچایا۔ مگر پاکستان میں؟

یہاں پی ٹی آئی کے وزیر نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر اپنے ہی ہوابازوں کو مجرم ٹھیرا دیا۔ یہ محض نااہلی نہیں، قومی خودکشی تھی۔ چار سال بعد، نومبر 2024 میں یورپ نے بالآخر پابندی ختم کی۔ اور 25 اکتوبر 2025 کو پہلی براہِ راست پرواز مانچسٹر پہنچی مگر سوال وہیں کا وہیں رہا: کیا غلام سرور خان سے بازپرس ہوئی؟ کیا کسی نے پوچھا کہ ایک بیان نے ملک کو اربوں کا نقصان کیوں پہنچایا؟ جواب ہے: نہیں۔ نہ احتساب ہوا، نہ شرمندگی۔ کیوں کہ اْنہیں روزِ اوّل سے اسٹیبلشمنٹ کی چھتری میسر ہے، وہی چھتری جس کے سائے تلے ہر قومی مجرم کو تحفظ حاصل رہا ہے۔ غلام سرور خان، جن کے غیر ذمے دارانہ بیان نے پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن (PIA) کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا، ان کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔

ایک کسان سے کونسلر اور کونسلر سے وزیر بننے تک کا سفر طے کرنے والے غلام سرور خان نے بی اے تو کیا، مگر نہ وہ کبھی اسٹوڈنٹس پولیٹکس کا حصہ رہے، نہ کسی فکری یا سیاسی تربیت سے گزرے۔ پھر قسمت کا دروازہ اسٹیبلشمنٹ کی نرسری سے کھلا۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی انگلی پکڑی اور سابق گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان کے ذریعے پنجاب اسمبلی میں داخل ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کے عہد ِ اقتدار میں وہ اسمبلی کی زینت بنے رہے، اور ضیاء کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی میں جا پہنچے۔ مگر وہاں بھی قرار نہ آیا۔ سو بدلتے موسموں کے ساتھ وفاداریاں بدلتے رہے، ق لیگ کی چھاؤں میں اقتدار کے مزے لوٹے، پھر پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ملک و قوم کے حصے میں پی آئی اے کی بربادی لکھی، اور جب تحریک ِ انصاف کا ستارہ غروب ہوا تو موصوف بڑی صفائی سے جہانگیر ترین کی اسٹیبلشمنٹ نواز نئی چھتری کے نیچے جا بیٹھے۔ درحقیقت یہ صرف ایک شخص کی نادانی نہیں، بلکہ اْس قومی پالیسی کا شاخسانہ ہے جس نے طلبہ سیاست، ٹریڈ یونین اور فکری تربیت کا گلا گھونٹ دیا۔ ایک وقت تھا جب جامعات قیادت کی نرسریاں تھیں، جہاں سے مکالمہ، برداشت اور سیاسی شعور رکھنے والے رہنما پیدا ہوتے تھے۔ مگر جب یہ نرسریاں بند کی گئیں تو قیادت کے بیج اسٹیبلشمنٹ کے لان میں بو دیے گئے۔ اب قیادت کی نرسری راولپنڈی کے گیٹ نمبر 4 پر ہے، جہاں سے وفادار مگر ناتجربہ کار سیاستدان برآمد ہوتے ہیں، جو اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں، اپنی وفاداری عوام سے نہیں بلکہ طاقت کے مراکز سے جوڑتے ہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جس کے باعث آج سرحدوں پر ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں اور شہروں میں عوام دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ چونکہ فیصلے کرنے والے عوامی راہنما نہیں، بلکہ وہ سیاسی جوکر ہیں جن کی وفاداریاں عوام کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کے گیٹ نمبر چار سے بندھی ہیں۔

سوال صرف حکومتوں یا پارٹیوں پر نہیں، بلکہ عوامی شعور پر بھی ہے۔ برطانیہ میں پاکستانیوں کی اکثریت آج بھی پی ٹی آئی کی حامی ہے، مگر افسوس کہ اپنی حکومت کی نااہلی، پانچ سالہ تکالیف اور اربوں کے نقصان کے باوجود وہ آج بھی اپنی کلٹ قیادت پر سوال اٹھانے سے قاصر ہیں۔ یہی اندھی عقیدت قوموں کو تباہ کرتی ہے، جہاں سوال جرم اور شعور بغاوت بن جاتا ہے۔ آج جب پی آئی اے کی پروازیں ایک بار پھر مانچسٹر کی فضاؤں میں محو ِ پرواز ہیں، تو ہمیں خوشی کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ پانچ سالہ پابندی صرف ایک حادثہ نہیں تھی، یہ ہمارے نظام، سیاست اور اجتماعی شعور کی ناکامی کا نوحہ ہے۔ جب تک پاکستان میں طلبہ سیاست کے دروازے نہیں کھلیں گے، غلام سرور خان جیسے ناتجربہ کار سیاستدان اسمبلیوں میں آتے رہیں گے، اور پاکستان کو وقار، معیشت اور عزت، تینوں محاذوں پر نقصان ہوتا رہے گا۔

عبید مغل.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غلام سرور خان پی ا ئی اے کی

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد