عمران خان سے ملاقات کا معاملہ، توہین عدالت کی درخواست کیلئے سہیل آفریدی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
عمران خان سے ملاقات کا معاملہ، توہین عدالت کی درخواست کیلئے سہیل آفریدی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط WhatsAppFacebookTwitter 0 29 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان تحریک انصاف کے بانی و سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے حکم پر عملدرآمد نہ کیے جانے پر وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے توہین عدالت کیس دائر کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔سہیل آفریدی نے ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط ارسال کیا، جس میں مقف اپنایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعلی کی بانی سے ملاقات کروانے کا حکم دیا تھا لیکن اس کے باوجود جیل انتظامیہ نے وزیراعلی کو ملنے کی اجازت نہیں دی۔
خط میں کہا گیا کہ توہین عدالت کا کیس دائر کرنے کے لیے حکم نامے کی تصدیق شدہ نقل فراہم کی جائے، جس کے لیے درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے لیکن تاحال تصدیق شدہ نقل فراہم نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ 23 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی تھی کہ وہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کرے، جس کے تحت سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ہفتے میں دو بار ملاقاتوں کا شیڈول بحال کیا گیا تھا۔
عدالت نے جیل حکام کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ ملاقاتوں کو پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق ممکن بنایا جائے۔تاہم، عدالتی حکم کے باوجود وزیراعلی خیبرپختونخوا سمیت دیگر رہنماں کو ملاقات نہیں کرنے دی گئی تھی، جس پر انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا تھا اور عمران خان سے ملاقات کیے بغیر واپس روانہ ہوگئے تھے۔آج، پشاور بار میں تقریب سے خطاب کے دوران سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ بطور وزیر اعلی خیبرپختونخوا پارٹی چیئرمین سے ملنا چاہتا تھا لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ججز کے حکم کے باوجود ایک حوالدار نے مجھے روک لیا۔
مزید کہا تھا کہ یہ عدلیہ کی کمزوری ہے کہ ججز کا حکم ایک حوالدار ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے، فیصلے نہ ماننے پر ججز کو سامنے آنا چاہیے، ہم سب ان کا ساتھ دیں گے۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا کہ قانون کی پاسداری کے لیے کیس کو آگے بڑھانے کی خاطر حکم نامے کی کاپی درکار ہے، آج کی تاریخ تک ہمیں حکم نامے کی کوئی کاپی تاحال موصول نہیں ہوئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی آئی اے کی لندن میں شاندار تقریب برطانیہ کے لیے نئی پروازوں کا اعلان پی آئی اے کی لندن میں شاندار تقریب برطانیہ کے لیے نئی پروازوں کا اعلان اسحاق ڈار کا الجزائری ہم منصب سے رابطہ، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق راولپنڈی: تھانہ صادق آباد احتجاج کیس میں اہم پیشرفت؛ علیمہ خان کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا پیپلز پارٹی نے آزادکشمیر میں وزیراعظم کے امیدوار کا نام فائنل کرلیا وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پی اے آرسی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ٹی ایل پی کے 600 بندے ہلاک ہونے کا دعوی کرنے والے ذرا لاشیں تو دکھادیں، وزیراعلی پنجابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ کو اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان سے ملاقات سہیل آفریدی توہین عدالت کورٹ کو خط کے لیے
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :