میرپور خاص: میئر عبدالرئوف غوری نے اسفالٹ پیج ورک کے کام کا آغاز کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص (نمائندہ جسارت) میئر عبدالرؤف غوری کا ایک اور وعدہ پورا ،رواں سال بارشوں کے دوران ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی شہر کی مختلف شاہراہوں پر میئر کی ہدایت پر اسفالٹ پیچ ورک کام کا آغاز کردیا ، تفصیلات کے مطابق مئیر عبدالروف غوری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ بارشوں میں شہر کی اہم شاہراہوں جن میں انڈر پاس روڈ، عمرکوٹ روڈ، پوسٹ آفس چوک روڈ ایم اے جناح روڈ سمیت مختلف سٹرکیں بری طرح سے ٹوٹ پھوٹ کے سبب شہریوں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا تھا جس کے لیے بارشوں کے فوری بعد میری جانب سے میرپورخاص کی عوام سے وعدہ کیا گیا تھا مون سون بارشوں کے سیزن کے اختتام پر شہر بھر میں اسفالٹ روڈ کا کام شروع کردیا جائے گا انھوں نے کہا کہ فوری طور کارپوریشن انجنئیرنگ محکمے کو کام کی ہدایت جاری کر دی گئی اور کام شروع ہوچکا جس میں انڈر گراؤنڈ پل کے اطراف شاہراہ اسٹیشن۔ چوک پوسٹ آفس چوک مارکیٹ چوک بلدیہ روڈ سنیت دیگر روڈز شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔