محکمہ موسمیات پاکستان کا ایتھوپیا کے آتش فشاں سے متعلق الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
محکمہ موسمیات پاکستان نے ایتھوپیا کے آتش فشاں سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔
ایتھوپیا میں دارالحکومت ادیس ابابا سے تقریباً 800 کلومیٹر دور افار ریجن میں 12 ہزار سال سے خاموش ہیلی گُبی آتش فشاں پھٹ گیا جس سے نکلنے والا دھواں 46 ہزار فُٹ کی بلندی تک پہنچ گیا۔
ایتھوپیا میں آتش فشاں ہیلی گُبی پھٹنے سے راکھ کے بادل یمن، عمان، بھارت، شمالی پاکستان تک پہنچے ہیں۔
اس معاملے پر ترجمان محکمہ موسمیات پاکستان انجم نذیر کا کہنا ہے کہ آتش فشاں کی راکھ گوادر کے جنوب میں 60 ناٹیکل مائل پر دیکھی گئی
ترجمان نے بتایا کہ محکمہ موسمیات نے پہلی بار کسی آتش فشاں کی راکھ سے متعلق الرٹ جاری کیا، یہ راکھ 45 ہزار فٹ کی بلندی پر تھی۔
ایتھوپیا میں 12 ہزار سال سے خاموش آتش فشاں پھٹ گیا، راکھ کے بادل پاکستان تک پہنچ گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ڈومیسٹک پروازیں 34 سے 36 ہزار فٹ جبکہ بین الاقوامی پروازوں کے جہاز 40 سے 45 ہزار فٹ کی بلندی پر ہوتے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ راکھ بین الاقومی پروازوں کے جہاز کے انجن کو متاثر کرسکتی ہیں۔
واضح رہے کہ ہیلی گُبی آتش فشاں 12 ہزارسال میں پہلی بارپھٹا ہے۔ آتش فشاں پھٹنے سے جانی نقصان یا انخلا کا نہیں بتایا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔