خطیب: حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ محمد جواد حافظی (نائب امام جمعہ)
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: علامہ شیخ جواد حافظی نے علاقے میں اہل بیت علیہم السلام کی شان میں توہین اور سوشل میڈیا پر گستاخیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہمارے مقدسات پر بار بار حملے ہو رہے ہیں۔ ایسے تمام ٹک ٹاکرز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ جنہوں نے ماضی میں یا حالیہ دنوں میں اس ناپاک عمل کا ارتکاب کیا، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ عقیدہ سب سے مقدم ہے اور پاکستان ہمیں اسی لیے عزیز ہے کہ یہاں ہمارے مذہبی جذبات کا تحفظ ہو۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں فوری اور سخت اقدام کریں۔ ترتیب و تدوین: آغا زمانی
خطبۂ اوّل
حمد و ثنائے الہیٰ اور صلوات بر محمد و آل محمد
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
سب سے پہلے خداوند متعال کا شکر بجا لانا چاہیئے کہ اس نے ہمیں عبادت کی توفیق اور اجتماعی و انفرادی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا موقع عطا فرمایا۔ انسان چونکہ فطرتاً سماجی مخلوق ہے، اس کی زندگی دوسروں کے تعاون، ملاقات اور میل جول کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ ہر انسان دوسرے کا محتاج ہے، کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔
دعا کی اہمیت اور اجتماعی دعاؤں کی قبولیت
دعا ایسی ضرورت ہے، جس سے کوئی بے نیاز نہیں۔ اگر کسی کی اپنی دعا قبولیت تک نہ پہنچے تو اسے چاہیئے کہ دوسروں سے دعا کی درخواست کرے، کیونکہ مومن کی زبان سے دوسرے مومن کے حق میں نکلی ہوئی دعا جلد قبول ہوتی ہے۔ کبھی انسان اپنے گناہوں کے بوجھ کی وجہ سے دعا کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے، جبکہ دوسرے مومن کی زبان پاکیزہ ہوتی ہے۔ آج جمعہ کے بابرکت دن ہم سب ایک دوسرے کے لیے خیر و برکت کی دعا کریں۔ خاص طور پر وہ افراد جو زیارتِ کربلا کی تمنا رکھتے ہیں، لیکن پہنچ نہیں سکے۔ اس موقع پر حضرت ام البنین (س) کو وسیلہ قرار دینا نہایت بابرکت عمل ہے۔ حضرت ام البنین کی مصیبت، یومِ وفات اور دعا کا وسیلہ۔ آج حضرت ام البنین فاطمہ کلابیہ، مادرِ باب الحوائج حضرت عباس علیہ السلام کا یومِ وفات ہے۔ آپ کے چاروں فرزند حضرت علی علیہ السلام کی آغوش میں پروان چڑھے اور کربلا کی مصیبتوں میں شریک ہوئے۔ روایات میں ہے کہ ام البنین (س) زیارتِ کربلا سے محروم رہیں اور بقیع میں بیٹھ کر بیٹوں کی شبیہیں بنا کر گریہ کیا کرتی تھیں۔ اسی مناسبت سے ہم حضرت امام زمانہ عج، رہبر معظم، علماء کرام اور تمام اہلِ ایمان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔
حاضرین اور ملتِ اسلامیہ کے لیے خصوصی دعا
پروردگار بحق محمد و آل محمد: مریضوں کو شفا عطا فرما، بے اولادوں کو اولادِ نرینہ عطا فرما، زائرین کی تمنا رکھنے والوں کو زیارتِ کربلا، شام، مکہ و مدینہ نصیب فرما، وطن عزیز پاکستان کو امن، استحکام اور برکت عطا فرما، ہمارے علاقے کو ارضی و سماوی آفات سے محفوظ فرما اور مولا امام زمان عج کے ظہور میں تعجیل فرما، خصوصاً ہمارے سرپرست علامہ شیخ حسن جعفری اور جامعہ محمدیہ کے سرپرست اعلیٰ سمیت تمام علماء و مومنین کی صحت و سلامتی کے لیے دعا۔ آمین
موضوعِ گفتگو، آدابِ اسلامی اور آدابِ سفر
ہماری مسلسل گفتگو "آدابِ اسلامی" کے ذیلی عنوان "آدابِ سفر" کے تحت جاری ہے۔ آج اس سلسلے کا چھٹا موضوع پیشِ خدمت ہے۔
مولا علی علیہ السلام کا فرمان، سفر کے پانچ فوائد
مولا امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ''اگر سفر کرنا ہو تو بے مقصد نہ نکلیں؛ سفر کے پانچ فائدے ہیں، انہی کے لیے روانہ ہوں۔''
(1) اپنی حالت، صلاحیت اور معیشت بہتر بنانے کے لیے سفر
سفر انسان کی زندگی میں تبدیلی لاتا ہے۔ انسان گھر میں رہتے رہتے ذہنی دباؤ، غم یا یکسانیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی اس کے مزاج اور صحت میں بہتری کا سبب بنتی ہے۔
(2) ماحول اور آب و ہوا کا اثر
ہمارا موجودہ طرزِ زندگی ایسی غذاؤں، سبزیوں، پھلوں اور چیزوں سے جڑا ہے، جو ہماری زمین کی پیداوار نہیں۔ اپنے علاقوں کی غذا، ہوا اور ماحول جسم کے لیے زیادہ سازگار ہوتے ہیں۔ مگر افسوس، آج ہم نے اپنے کھیت و کھلیان چھوڑ دیے ہیں۔ شہروں کی طرف دوڑ لگ گئی ہے اور عبادت کا تصور بھی صرف چند اعمال تک محدود کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ: لوگوں کی ضروریات پوری کرنا، انہیں آسانیاں فراہم کرنا، زمین کو آباد کرنا بھی عبادت ہے۔
(3) حضرت علی علیہ السلام کی عملی مثال
25 سال کے صبر و سکوت کے دور میں مولا علی علیہ السلام نے 25 کنویں اپنے ہاتھوں سے کھودے، پسینہ خشک ہونے سے پہلے انہیں عوام کے لیے وقف کر دیا۔ ان کنوؤں سے انسان بھی سیراب ہوتے اور فصلیں بھی اگتی تھیں۔ مگر آج ہم آباد زمینوں کو ویران کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
(4) سفر کا نتیجہ، ذہنی، جسمانی اور معاشرتی سکون
سفر نہ صرف ذہنی سکون فراہم کرتا ہے بلکہ انسان کو نئے ماحول، نئی سوچ اور نئے امکانات سے آشنا کرتا ہے۔
سفر کے باقی فوائد، مولا علی علیہ السلام کی تعلیمات
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے سفر کے صرف ایک پہلو نہیں بلکہ پانچ بنیادی فوائد بیان فرمائے ہیں۔ گذشتہ گفتگو میں دو فوائد بیان ہوئے، آگے تین مزید فوائد اس طرح ہیں:
(2) معاشی بہتری کے لیے سفر
اگر انسان اپنے گھر، علاقے یا وطن میں روزگار حاصل نہ کرسکے تو بہتر ذریعہ معاش کے لیے دوسری جگہ سفر کرنا نہ فقط جائز بلکہ مطلوب ہے۔ بلتستان میں خصوصاً سردیوں کے موسم میں کاریگر اور مزدور جب بے روزگار ہو جاتے ہیں تو پنجاب، اسلام آباد یا راولپنڈی جیسے شہروں کا سفر انہیں دو تین ماہ کی کمائی فراہم کر دیتا ہے، جو خاندان کی کفالت میں بڑی مدد بنتی ہے۔
(3) علم کے حصول کے لیے سفر
اگر اپنے علاقے میں علم کا معیار بلند نہ ہو تو انسان کو سفر ضرور اختیار کرنا چاہیئے۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: "طلب العلم فریضة، ولو بالصین"، "علم حاصل کرو، چاہے تمہیں چین تک کیوں نہ جانا پڑے۔"
(4) ہنر، ادب اور مہارت سیکھنے کے لیے سفر
بہترین آداب، نیا ہنر یا کسی ٹیکنیکل شعبے کی مہارت سیکھنے کی خاطر بھی سفر اختیار کرنا چاہیئے۔ دنیا کی ترقی اسی بنیاد پر ہے کہ لوگ شہر بدل کر، ملک بدل کر اپنی صلاحیتیں بڑھاتے ہیں۔
(5) نیک افراد کی صحبت کے لیے سفر
اگر کسی بزرگ انسان کی ملاقات، کسی صالح شخصیت کی صحبت، یا کسی دانا کے نصیحت آموز کلمات سننے کا موقع ملتا ہو تو اس مقصد سے سفر کرنا باعثِ برکت ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: "عاقل کبھی اس سفر سے باز نہیں رہتا جس سے اسے خیر، معرفت یا نصیحت ملے۔"
ایک تاریخی واقعہ، علی علیہ السلام کی نصیحت ایک مسافر کو
تاریخی روایات میں ملتا ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک شخص سفر پر روانہ ہونے والا تھا۔ روانگی سے پہلے اس کی ملاقات مولا علی علیہ السلام سے ہو گئی۔ اس نے عرض کیا: "یا امیرالمومنین۔۔ میں سفر پر نکل رہا ہوں، میرے لیے کوئی وصیت یا نصیحت فرما دیں، جو سفر میں میرے کام آئے۔" مولا نے نہایت محبت اور حکمت سے چند نصیحتیں ارشاد فرمائیں: پہلی نصیحت: اللہ کو اپنا ہمیشہ کا ساتھی بناؤ۔" مولا علی علیہ السلام نے فرمایا: ''اگر تم کسی ایسے رفیق کی تلاش میں ہو جو ہر گھڑی تمہارے ساتھ رہے تو اللہ کو اپنا رفیق بنا لو۔'' سفر میں بعض لوگ غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں: جنازہ لے جاتے ہوئے گانے بجانا۔۔۔ سفر میں نمازیں چھوڑ دینا۔۔۔ یہ سب اعمال سفر کو سفرِ معصیت بنا دیتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ: “ہم منزل پر پہنچ کر ایک ساتھ نماز پڑھ لیں گے۔” یہ طریقہ غلط ہے۔ اگر انسان کو پہلے سے یقین ہو کہ راستے میں نماز چھوٹ جائے گی تو ایسا سفر شرعاً درست نہیں۔
ڈرائیوروں کے بارے میں سخت تنبیہ
مولا کے کلام کے مفہوم کے مطابق: اگر ڈرائیور غفلت، نیند یا بے احتیاطی سے پورے قافلے کو خطرے میں ڈالے تو قیامت کے دن وہ ان تمام افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار شمار ہوگا۔ سفر عبادت اور ذمہ داری دونوں ہے۔ مومن کو چاہیئے سفر کا آغاز دعا سے کرے اور راستے میں خدا کو یاد رکھے۔
دوسری نصیحت: “کرام الکاتبین کو اپنا ساتھی سمجھو”
مولا علی علیہ السلام نے فرمایا: ''اگر بہترین رفیق چاہتے ہو تو تمہارے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے کرام الکاتبین بہترین رفیق ہیں۔'' وہ فرشتے جو ہر عمل لکھ رہے ہیں، تمہاری ہر بات سن رہے ہیں، تمہاری نیتوں تک سے باخبر ہیں۔ مومن کبھی اکیلا نہیں ہوتا۔ اللہ کے موکلین سفر میں اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ دعائے کمیل کا ایک جملہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے: "اللّٰهُمَّ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ بِذِكْرِكَ…" (اے پروردگار۔۔ میں تیرا ذکر کرکے تیری بارگاہ میں قرب حاصل کرتا ہوں)
تیسری نصیحت: “موت کو اپنا سب سے قوی واعظ سمجھو”
مولا علی علیہ السلام نے فرمایا: ''اگر تمہیں نصیحت چاہیے تو موت تمہارے لیے کافی ہے، وہ ہر لمحے تمہارے ساتھ ہے۔'' موت سب سے بڑی حقیقت ہے۔ آج یا کل، ابھی یا کچھ دیر بعد، انسان کو اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور آخری جملے میں مولا نے فرمایا: ''اگر میری یہ نصیحت بھی کافی نہ ہو تو جہنم کی آگ تمہارے لیے سب سے بڑی نصیحت ہے۔'' یہ مولا علی علیہ السلام کا اندازِ تربیت ہے.
خطبۂ دوم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمدللہ ربّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین محمد و آلہ الطیبین الطاہرین۔ حمد و ثنائے پروردگار اور چہاردہ معصومین علیہم السلام پر درود و سلام۔ نائب امام جامع مسجد سکردو، حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے خطبۂ دوم میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا ایک عظیم قول نقل کرتے ہوئے فرمایا: ''خَیْرُ الْبِلادِ ما حَمَلَکَ.'' (نہج البلاغہ، حکمت 375) ترجمہ: سب سے بہترین شہر وہ ہے، جو تمہارا بوجھ اٹھاتا ہے (یعنی تمہاری ضروریات پوری کرتا ہے، تمہیں سہولت دیتا ہے اور تمہیں سنبھالتا ہے)۔ علامہ جواد حافظی نے فرمایا: دنیا میں سب سے بہترین شہر وہ ہے، جس کا تم پر حق سب سے زیادہ ہے، جو تمہیں سہولت دیتا ہے، تمہارے معاملات سنبھالتا ہے، تمہارا بوجھ اُٹھاتا ہے۔
سکردو، پورے بلتستان کا بوجھ اٹھانے والا شہر
علامہ جواد حافظی صاحب نے فرمایا: آج ہمارے لیے وہ شہر سکردو ہے۔ یہی شہر ہم سب کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ پورے بلتستان کا تجارتی مرکز، تعلیمی مرکز، معاشی مرکز اور مواصلاتی مرکز یہی شہر ہے۔ خوراک سے لے کر پوشاک تک، تعمیراتی سامان سے لے کر کاروبار تک۔ ہر چیز سب سے پہلے سکردو آتی ہے پھر باقی علاقوں تک پہنچتی ہے۔ مگر افسوس۔۔ ہم میں سے کوئی بھی اس شہر کا حقیقی خیر خواہ نہیں۔ یہ شہر اپنی خوبصورتی میں دنیا کے بہترین شہروں جیسا ہونا چاہیئے تھا۔ لیکن ہم نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
انتظامیہ سے اپیل
علامہ جواد حافظی صاحب نے فرمایا: میں اپنے اداروں اور سربراہان سے کہتا ہوں۔ ذرا کبھی گاڑیوں سے اتر کر ان گلیوں، ان سڑکوں پر پیدل بھی چل کر دیکھیں۔ عہدے، گاڑیاں اور طاقت انسان کو اندھا نہ بنا دیں۔ زمین پر چلنے والے انسانوں کی تکلیف بھی محسوس کریں۔ دو جمعوں پہلے جس چوک میں پائپ لائن کی خرابی کی نشاندہی کی گئی تھی، الحمدللہ فوراً اس کا حل کیا گیا۔ لیکن ابھی بھی بے شمار مسائل موجود ہیں۔ کروڑوں روپے سے بنی ہوئی نئی سڑکیں پانی کے بہاؤ کی وجہ سے برباد ہو رہی ہیں۔ گاڑیاں گزرتی ہیں تو پانی سڑک کی تہہ کمزور کر دیتا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں۔ ایس ڈی اے آخر ہے کیا۔؟ علامہ صاحب نے سخت الفاظ میں فرمایا: پہلے ہی انتظامیہ پر بوجھ تھا، اب اس پر ایس ڈی اے نام کی ایک بلا مزید کھڑی کر دی گئی ہے۔ یہ ادارہ ہے کس کام کے لیے۔؟ کیا اس کی آنکھیں بند ہیں؟
مسائل پر توجہ نہ دینا عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ پانی کے حوالے سے کمپلینٹ سنٹر بنانا اچھی بات ہے، مگر عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔
آج کے پاکستانی حکمران لوٹنے والے، بنانے والے نہیں
علامہ جواد حافظی صاحب نے فرمایا: جو بھی اس ملک کا حکمران بنتا ہے، ملک کو لوٹنے لگ جاتا ہے۔ اس ملک کو بنانے والا کوئی نہیں۔ پاکستان کو تحفظ دینا ہے تو: پاکستانی عوام کو تحفظ دو، قانون کو تحفظ دو، نظام کو طاقتور بناؤ، شخصیات کو تحفظ دینا کوئی کارنامہ نہیں۔ شخصیت پرستی قوموں کو مٹا دیتی ہے، قانون اگر طاقتور نہ ہو تو قومیں ختم ہو جاتی ہیں۔ حالیہ حکومتی ترامیم کو انہوں نے پاکستان کی توہین قرار دیا اور فرمایا: دنیا کے سامنے ہمارا سر جھکا دیا گیا ہے، ہم اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
شہر سکردو کا حق، آپ کی ذمہ داری
جس شہر نے ہمارا بوجھ اٹھایا ہے، اس کے مسائل پر آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے۔ کہیں پائپ ٹوٹا ہو، کہیں پانی نہ آرہا ہو، کہیں سڑکیں خراب ہوں، فوری طور پر شکایت کریں۔ احسان فراموش نہ بنیں۔
انتخابات، قوم کا امتحان
علامہ شیخ جواد حافظی نے فرمایا: الیکشن صرف ووٹ نہیں ہوتے۔ الیکشن قوموں کا امتحان ہوتے ہیں۔ یہ طے ہوتا ہے کہ قوم کسے اپنا رہنما چن رہی ہے۔ اگر کوئی نااہل منتخب ہو جائے تو، اس کی نااہلی میں ووٹ دینے والا ہر شخص شریک ہوتا ہے۔
نمائندہ کی پانچ بنیادی صفات
پہلے چار بیانات تھے، اب پانچواں بیان شامل کیا گیا: نمائندہ ہمیشہ بلتستان میں رہنے والا ہو، سردیوں میں بھی عوام کو چھوڑ کر نہ بھاگے۔ عوام کے درمیان رہتا ہو، غیر ملکی دوروں، شہروں اور “سپاٹو” کا رسیا نہ ہو۔ عوام کے دکھ درد میں موجود رہے، منصوبے، وژن اور اہلیت رکھتا ہو، سوشل میڈیا پر آکر عوام کے سامنے اپنا منشور پیش کرے، عوام اس کا منشور سنیں، سوال کریں، ڈائیلاگ کریں۔ ماضی، حال اور مستقبل کا لائحہ عمل جانیں۔ نمائندہ وہ ہے، جو عوام کے ساتھ جیتا بھی ہے اور مرتا بھی ہے۔ جو سکردو میں نہ رہے، اسے سکردو کی نمائندگی کا حق نہیں دیا جا سکتا۔
شوکاز نوٹس کا غلط استعمال، ایک استاد کی المناک خودکشی
علامہ جواد حافظی نے کہا کہ اگر متعلقہ اداروں کو شوکاز نوٹس دینے کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر سب سے پہلے ان افسران اور بڑے عہدوں پر براجمان افراد کا احتساب ہونا چاہیئے، جنہوں نے نظامِ تعلیم، صحت اور انتظامی اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: گزشتہ شام کھرمنگ کے علاقے خاموش آبشار کے قریب ایک تجربہ کار ٹیچر نے پولیس اور محکمے کی غیر ضروری سختیوں، تذلیل اور شوکاز نوٹسوں کے مسلسل دباؤ کے باعث دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔ وہ 22 سال سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ تھا۔ اس کی موت کے ذمہ دار وہ تمام افراد ہیں جنہوں نے اسے ذہنی اذیت پہنچائی۔ ایسے لوگ شرعاً بھی قاتل شمار ہوں گے۔ علامہ جواد حافظی نے کہا کہ سزا و تادیب کا ایک منظم طریقہ کار ہوتا ہے، مگر یہاں بغیر تحقیق کے فوراً ڈس مس کر دینا ظلم ہے۔
اسلام آباد V8 حادثہ، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیئے
اسلام آباد میں بلتستان سے تعلق رکھنے والی طالبہ کی چار پہیوں والی گاڑی (V8) کے نیچے آکر موت کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شدید مذمت کی اور کہا: قانون کسی جج یا افسر کے بیٹے کے لیے نہیں بدلا جا سکتا۔ قاتل چاہے وزیراعظم کا بیٹا ہو یا جج کی اولاد۔ اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیئے، تاکہ غریبوں کا خون یوں رُل نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ اس کیس میں طاقتوروں کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
مقدسات کی توہین، ناقابلِ برداشت سلسلہ بند کیا جائے
علامہ شیخ جواد حافظی نے علاقے میں اہل بیت علیہم السلام کی شان میں توہین اور سوشل میڈیا پر گستاخیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہمارے مقدسات پر بار بار حملے ہو رہے ہیں۔ ایسے تمام ٹک ٹاکرز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ جنہوں نے ماضی میں یا حالیہ دنوں میں اس ناپاک عمل کا ارتکاب کیا، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ عقیدہ سب سے مقدم ہے اور پاکستان ہمیں اسی لیے عزیز ہے کہ یہاں ہمارے مذہبی جذبات کا تحفظ ہو۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں فوری اور سخت اقدام کریں۔
آخر میں دعا
علامہ جواد حافظی نے دعا کرتے ہوئے کہا: پروردگارا۔۔ ہم سب کو سننے اور سنانے کے بعد عمل کی توفیق عطا فرما۔ اس شہر، اس علاقے اور اس وطن کی خدمت اخلاصِ نیت کے ساتھ کرنے کی توفیق دے۔ یا اللہ، ہمیں ظلم سے بچا اور ظالموں کے مقابلے میں بے بس نہ کر۔ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولا علی علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام علامہ جواد حافظی نے علی علیہ السلام کی اور سوشل میڈیا علیہ السلام کا کرتے ہوئے کہا کے لیے سفر ام البنین نے فرمایا علامہ شیخ انسان کو جنہوں نے انہوں نے رہے ہیں کرتا ہے سے پہلے دیتا ہے کو اپنا کے ساتھ کو تحفظ عوام کے کہا کہ سفر کے ہے اور
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔