اسرائیل کی شمولیت پر اعتراض، پانچویں یورپی ملک نے بھی یورو وژن کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
یورو وژن گائیکی مقابلے میں اسرائیل کی شمولیت کے خلاف عالمی ردعمل بڑھتا جا رہا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت میں آئس لینڈ نے بھی مقابلے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا، یوں آئس لینڈ اس مقابلے سے دستبردار ہونے والا پانچواں ملک بن گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بائیکاٹ کا فیصلہ عوامی سطح پر ہونے والی بحث کے بعد کیا گیا۔ اس سے قبل اسپین، آئرلینڈ، سلووینیا اور نیدرلینڈز بھی یورو وژن مقابلے میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں۔
آئیس لینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے "آر یو وی" کے ڈائریکٹر جنرل اسٹیفن ایرکسن نے کہا کہ اسرائیل کی شمولیت نے یورپی نشریاتی یونین اور عوام میں شدید اختلافات پیدا کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں اس مقابلے میں شریک ہونا درست نہیں، اسی وجہ سے آئس لینڈ پیچھے ہٹ رہا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس یورو وژن کے دوران ووٹنگ اور کمپیننگ کے عمل پر اثرانداز ہونے کے الزامات، اور اب غزہ جنگ کے بعد عالمی دباؤ میں اضافے نے اسرائیل کی شرکت کو مزید تنازعات میں گھیر لیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیل کی یورو وژن
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔