امریکا میں 2 ہزار افغان شہریوں کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 13 December, 2025 سب نیوز

امریکا میں موجود افغان شہریوں سے متعلق ایک تشویش ناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں تقریباً 2 ہزار افغان باشندوں کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ بات نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

تلسی گبارڈ نے بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکا آنے والے افغان شہریوں کی جانچ پڑتال کے سست اور غیر مؤثر عمل پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن الائیز ویلکم کے تحت مجموعی طور پر 18 ہزار افغان شہری امریکا میں داخل ہوئے، تاہم اس دوران مناسب اور جامع اسکریننگ نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں آپریشن الائیز ویلکم کے تحت آنے والے ہر افغان شہری کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔ تلسی گبارڈ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا آنے والے 18 ہزار افغان شہریوں میں سے تقریباً 2 ہزار کے دہشت گرد تنظیموں سے براہ راست یا ممکنہ روابط ہیں۔

نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر نے خبردار کیا کہ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں مسلسل امریکی سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں اور یہ گروہ امریکا میں ایسے افراد کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کے مقاصد کو آگے بڑھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے اس خطرے کو نہایت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

تلسی گبارڈ نے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر قانونی طور پر امریکا آنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جو ملکی سلامتی کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسز فرخ خان پاکستان مسلم لیگ شعبہ خواتین کی مرکزی صدر نامزد عوام کیلئے خوشخبری، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11روپے کی بڑی کمی کا امکان پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کی دوبارہ تشکیل، علی امین گنڈاپور شامل نہیں، نوٹیفکیشن جاری پاکستان نے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو ابتدائی تیاری کیلئے این او سی جاری کر دیا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ڈچ سفیرکی ملاقات، تحقیقی تعاون بڑھانے پر اتفاق تھری سٹار جنرل کے کورٹ مارشل اور سزا سے آئندہ فوجی اور سول افسران محتاط ہونگے، نیئر بخاری ٹرانسپورٹرز اور پنجاب حکومت میں مذاکرات کامیاب، ہڑتال ختم کرنے کا اعلان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کے دہشت گرد تنظیموں سے افغان شہریوں ہزار افغان امریکا میں

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف