برآمد شدہ موبائل فونز مزدا ٹرک کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں میں چھپائے گئے تھے، جو کہ بلوچستان سے کراچی سمگل کیے جا رہے تھے، جن کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ رینجرز نے حب ریور روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے قبضے سے اسمگل شدہ نان کسٹم پیڈ مختلف اقسام کے اسمارٹ فونز اور سامسنگ ٹیبلٹ برآمد کرلیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ رینجرز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے حب ریور روڈ رئیس گوٹھ لکی لکی چڑھائی جامعہ فاروقیہ کے قریب کارروائی کرتے ہوئے نان کسٹم پیڈ موبائل  فونز کی اسمگلنگ میں ملوث 2 ملزمان ذاکر خان اور محمد سلیم کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسمگل شدہ نان کسٹم پیڈ 750 مختلف اقسام کے اسمارٹ فونز اور 61 سامسنگ ٹیبلٹ برآمد کر لیے گئے۔ برآمد شدہ موبائل فونز مزدا ٹرک کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں میں چھپائے گئے تھے، جو کہ بلوچستان سے کراچی سمگل کیے جا رہے تھے، جن کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔ پاکستان رینجرز سندھ کی جانب سے اسمگلنگ کے مکمل خاتمے تک آپریشن کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ گرفتار ملزمان کو بمعہ برآمد شدہ نان کسٹم پیڈ موبائل فونز اور مزدا ٹرک مزید قانونی کاروائی کیلئے کسٹم حکام کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نان کسٹم پیڈ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا