کرم پارا چنار کے لئے امدادی اشیا کا جزوی قافلہ بحفاظت پہنچ گیا، عوام کے لئے سکھ کا سانس بنا، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
منصورہ جامع مسجد مرکزی تربیت گاہ میں دیر بالا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات غیبی مجبوری کے تحت ہیں، دو متحارب فریقین کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں تو معجزہ ہوگا۔ سیاسی بحرانوں کے خاتمہ کے لیے قومی ترجیحات پر قومی ڈائیلاگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات غیبی مجبوری کے تحت ہیں، سیاسی استحکام کے لیے سیاسی قومی جمہوری قیادت کیساتھ مذاکرات اور آئینی حدود کی پابندی سے ممکن ہیں۔ منصورہ جامع مسجد مرکزی تربیت گاہ میں دیر بالا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات غیبی مجبوری کے تحت ہیں، دو متحارب فریقین کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں تو معجزہ ہوگا۔ سیاسی بحرانوں کے خاتمہ کے لیے قومی ترجیحات پر قومی ڈائیلاگ ناگزیر ہے۔ سیاسی استحکام کے لیے سیاسی قومی جمہوری قیادت کیساتھ مذاکرات اور آئینی حدود کی پابندی سے ممکن ہیں۔ سیاسی مذاکرات کی کامیابی کے لیے سیاسی بالغ نظری اور اسٹیٹسمین شپ ضروری ہے وگرنہ ریاستی قوتیں،اسٹیبلشمنٹ مضبوط اور سیاست، پارلیمان اور جمہوریت کمزور تر ہوتے جائیں گے۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بالادستی کے باوجود ریاست اور حکومت کی رِٹ کا نہ ہونا قومی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ کرم پارا چنار کے لئے امدادی اشیا کا جزوی قافلہ بحفاظت پہنچ گیا، عوام کے لئے سکھ کا سانس بنا۔ توقع ہے کہ مسافر قافلوں کی آمد و رفت کو بحفاظت بنایا جائے گا۔ لیاقت بلوچ نے طلبہ کے سوال کے جواب میں کہا کہ نظامِ عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ سویلین کا ٹرائل فوجی عدالت میں نہ ہو، فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے پی ٹی آئی حکومت نے مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی کے ساتھ مل کر سنگین غلطی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی اور پی کے لیے کے لئے
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔