جماعت اسلامی کے تحت گرینڈ آل پارٹیز کانفرنس کل ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
سکھر (نمائندہ جسارت) حکومت سندھ کی ناقص و ناکام پالیسیوں کے باعث صوبہ سندھ میں بے امنی، لاقانونیت، اغوا برائے تاوان، ڈاکو راج، رہزنی ، ڈکیتیوں ، اسٹریٹ کرائمز، قبائلی جھگڑوں سمیت دیگر مسائل پر جامع حکمت عملی وضع کرنے اور مشترکہ لائحہ کیلئے جماعت اسلامی سندھ کی میزبانی میں گرینڈ آل پارٹیز کانفرنس 12 جنوری بروز اتوار دن دس بجے، آر ٹی رائل تاج ہوٹل نزد لب مہران سکھر میں منعقد ہو رہی ہے۔کانفرنس کی تمام تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں، اے پی سی میں شرکت کیلئے سندھ بھر سے ممتاز سیاسی سماجی، مذہبی شخصیات، مختلف سیاسی مذہبی جماعتوں تجارتی انجمنوں کو دعوت دی گئی ہے۔صوبائی ڈپٹی سیکرٹری مولانا حزب اللہ جکھرو نے بتایا ہے کہ اے پی سی میں شرکت کیلئے سیاسی مذہبی جماعتوں سمیت دیگر تمام نے شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے، اے پی سی کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔