اسلام آباد : صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ پہلی ششماہی میں چار بار 27جنوری ،10مارچ، 5مئی اور 16جون کومانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس ہونگے ، شرح سود کو سنگل ڈیجیٹ میں لانے کا سنہری موقع ،اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں 5فیصد کمی کرے ، شرح سود میں فوری اور بڑی کمی ملکی معیشت کی بہتری اور مالی استحکام کے حوالے سے اہم ہے ۔ صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایف پی سی سی آئی) عاطف اکرام شیخ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مہنگائی 4.

1فیصد تک گر گئی ، ترسیلات زر میں سالانہ بنیادوں پر 29فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے ،اسٹاک مارکیٹ 1لاکھ 13ہزار پوائنٹس پر،سرکاری زرمبادلہ ذخائر 12.5ارب ڈالر ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں کمی کے باوجود 13فیصد کی بلند شرح سود کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے،مہنگائی میں نمایاں کمی کے پیش نظر پالیسی ریٹ کی موجودہ دوہرے ہندسے کی شرح غیر منصفانہ ہے، دسمبر میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصدہونے پر پالیسی ریٹ میں 500بیسس پوائنٹس کی کمی ہونی چاہئے ۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ شرح سود میں بڑی کمی برآمدات میں مزید اضافے اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریگی، ملکی معیشت ٹریک پر آ چکی ،پائیدار اور دیرپا معاشی استحکام کیلئے کاروبار دوست اقدامات ناگزیر ہیں ، بزنس کمیونٹی معاشی بہتری کے لیے کیے گئے تمام حکومتی فیصلوں کی مکمل حمایت کرے گی ۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • مسلم لیگ ن کو موقع ملا تو میرپور اور پورے آزاد کشمیر کی تقدیر بدلیں گے : نواز شریف
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم