'میرے باپ کو جیل میں ہی مر جانا چاہیے' بیوی کا اجنبیوں سے ریپ کرانے والے کی بیٹی کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
اپنی بیوی کا اجنبیوں سے ریپ کرانے والے ڈومینیک پیلیکوٹ کی بیٹی نے کہا ہے کہ میرے باپ کو جیل میں ہی مر جانا چاہیے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے اپنے ایک انٹریو میں کیرولین ڈیرین نے بتایا کہ نومبر 2020 میں انہیں ایک فون کو کال آئی جس نے ان کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا، فون کے دوسری طرف ان کی والدہ گیسیل پیلیکوٹ تھیں۔
کیرولین ڈیرین نے کہا کہ والدہ نے مجھے بتایا کہ انہیں صبح پتا چلا کہ [تمہارے والد] ڈومینیک تقریباً 10 سال سے نشہ آور دوا دے رہے تھے تاکہ مختلف مرد ان کی عصمت دری کر سکیں۔
ڈیرین نے کہا کہ اس وقت میں نے ایک عام زندگی کھو دی، مجھے یاد ہے کہ میں چیخی، روئی، میں نے والد کے ساتھ بد تمیزی بھی کی، یہ ایک زلزلے کی طرح تھا، ایک سونامی کی طرح تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس بیوی کو نشہ آور اشیا پلاکر 72 افراد سے زیادتی کروانے والا شوہر گرفتار
ڈومینک پیلی کوٹ کو دسمبر میں ساڑھے 3 ماہ تک چلنے والے تاریخی مقدمے کے اختتام پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
کیرولین ڈیرین کا کہنا ہے کہ اس کے والد کو جیل میں ہی مر جانا چاہیے۔
گزشتہ ماہ فرانس کی عدالت نے جزیل پیلی کوٹ کے 72 سالہ شوہر اور دیگر 50 ساتھی ملزمان کو اجتماعی عصمت دری کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دیدیا۔
فرانس کے اس کیس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا جس میں شوہر نے اپنی بیوی کو بے ہوشی کی دوا کھلا کر 50 سے زائد اجنبیوں سے جنسی زیادتی کروائی۔
شوہر 72 سالہ ڈومینیک پیلیکوٹ نے اس شرم ناک حرکت کی 20 ہزار سے زائد ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائیں اور انھیں اپنے لیپ ٹاپ میں محفوظ رکھا تھا۔
تین ماہ سے جاری سماعت میں ڈومینک پیلی کوٹ نے اپنی بیٹی اور بیوی کا سامنا کیا۔ کمرۂ عدالت میں متعدد بار جذباتی لمحات دیکھنے میں آئے۔
شوہر ڈومینک پیلی کوٹ کے اقبال جرم کے بعد آج عدالت نے انھیں 20 سال قید کی سزا سنا دی جب کہ پیرول پر رہائی کے لیے انھیں 13 سال لازمی قید کاٹنا ہوگی۔
ڈومینک پیلی کوٹ کے وکیل نے سزا سننے کے بعد کہا کہ ان کے مؤکل سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
جنسی زیادتی کرنے والے 50 ملزمان کے لیے 4 سے 18 سال قید کی درخواست کی گئی۔
جنسی زیادتی کرنے والوں کی عمریں 27 سے 74 سال کے درمیان ہیں۔ جن میں سے کچھ نے اقبال جرم کیا اور اکثر نے کہا کہ وہ سمجھے یہ سب رضامندی ہو رہا ہے۔
عدالت نے ان 50 ملزمان میں سے 47 کو عصمت دری اور 2 کو عصمت دری کی کوشش کا مجرم قرار دیتے ہوئے قید کی سزائیں سنائیں۔
جزیل پیلی کوٹ نے عدالت سے انصاف ملنے پر اپنی حمایت کرنے والے ایک ایک شہری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ناانصافی کی شکار خواتین کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔
سماعت کے آغاز پر جزیل پیلی کوٹ سیاہ چشمہ پہن کر عدالت آتی تھیں تاکہ ان کی شناخت نہ ہوسکے تاہم آخر میں انھوں نے اس کیس کا بہادری سے سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔
جزیل پیلی کوٹ نے عدالت میں جنسی زیادتی کی ویڈیوز اور تصاویر دکھانے اور کھلی سماعت کی بھی اجازت دی تاکہ اس مکروہ جرم کا پردہ فاش ہو۔
72 سالہ جزیل پیلی کوٹ نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا انھیں اب ان کے شادی سے پہلے والے نام سے پکارا جائے۔
فرانس سمیت دنیا بھر میں جزیل پیلی کوٹ کے دلیرانہ طور پر سامنے آکر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا کیس لڑنے پر تعریف کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنسی زیادتی کوٹ نے نے کہا کہا کہ قید کی
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی