اسلام آباد (آئی این  پی)وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)نے متحدہ عرب امارت (یو اے ای) کے صدر اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے ذریعے جعلی تصاویر اور ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر پھیلانے والے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

میڈیا رپورٹ  کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے ابتدائی طور پر 20 ایسے اکائونٹس کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جن کے ذریعے یہ تصاویر اور ویڈیوز پھیلائی گئیں۔ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے مقدمات کا اندراج کرکے گرفتاریاں شروع کر دیں، تحقیقات کا دائرہ کار بھی وسیع کر کے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور لاہور جے آئی ٹی میں شامل ہیں، جے آئی ٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز کی سربراہی میں بنائی گئی ہے۔

اسلام آباد  ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانیوالی خاتون گرفتار، پیٹ سے کیا نکلا؟ جانیں

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے سائبر پٹرولنگ سے اے آئی ویڈیوز اور تصاویر اپ لوڈ کرنے والے سوشل میڈیا اکاونٹس کی جانچ پڑتال کے بعد مقدمات کا اندراج کیا۔حکام کے مطابق ایف آئی اے نے تحقیقات سورس رپورٹ کے بعد شروع کیں، جن ملزمان کو گرفتار کیا گیا انہی کے اکاونٹس سے فیک تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے منفی تاثر پھیلایا گیا۔ایف آئی اے نے ایکشن لیتے ہوئے 3 ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے، جب کہ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے کام جاری ہے۔

واضح رہے کہ 7 جنوری 2025 سے سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر متعدد صارفین نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے درمیان مبینہ ملاقات کی مختلف ویڈیوز شیئر کیں، تاہم یہ ویڈیوز جعلی تھیں اور اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی تھیں۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید سے گلے ملنے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد آئی ویریفائی پاکستان کی ٹیم نے تحقیقات کی اور اس بات کا تعین کیا تھا کہ یہ جعلی ویڈیو تھی۔

شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو خبردار کردیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ایف آئی اے مریم نواز کے صدر

پڑھیں:

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف  سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر  میاں افتخار حسین نے نیشنل  سائبرکرائم  انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)  میں  درخواست جمع کرادی۔

 ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا  پر مذہبی بنیادوں  پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز  مہم  قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر  سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد  اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔

امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام

میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ  این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری  اور شفاف  تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد  پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل