31 جنوری تک جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو مذاکرات نہیں چل سکتے، پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
راولپنڈی:
پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے رکن صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر 31 جنوری تک غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو مذاکرات آگے نہیں چل سکتے، اب بال حکومت کے کورٹ میں ہے ہم جتنی لچک دکھاسکتے تھے دکھا دی۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صاحبزدہ حامد رضا نے کہا کہ دوسرا فریق اگلی میٹنگ میں جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے تیاری کرکے آئے، ایک ایسا غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے جو ذمہ داران کا تعین کرسکے، اس کمیشن میں ہم اپنی مرضی کا جج نہیں چاہ رہے بلکہ سپریم کورٹ کے موسٹ سینئر ججز کی بات کررہے جو ان دونوں واقعات کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کرسکے۔
صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہم مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ کیلئے تیار ہیں جس کیلئے دوسرا فریق کمیشن کے قیام سے متعلق ورکنگ کرکے آئے، اتنے دن گرنے کے باوجود ابھی مذاکرات کے اندر کسی قسم کی کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی، کمیشن کا قیام اور اسیران کی رہائی ہمارے پہلے دو مطالبات ہیں۔ یہ دونوں مطالبات ہم تحریری شکل میں فراہم کردیں گے، تیسری میٹنگ میں پریکٹیکل اقدامات کرنا ہوں گے، مذاکراتی کمیٹی سربراہ عمر ایوب کو بانی نے مکمل اختیار دیا ہے، چارٹر آف ڈیمانڈ پر انکے دستخط ہوں گے بانی کے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی کسی ایگزیکٹو آرڈر نہیں قانونی طریقے سے باہر آئیں گے، 190ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ ملک کی نیک نامی کا سبب نہیں بنے گا، اس ریفرنس میں خان ان کی اہلیہ سمیت فیملی کا کوئی ممبر بینیفشری نہیں، 190ملین پاؤنڈ ریفرنس کے فیصلہ کے بعد مذاکراتی عمل میں ہمارے رویوں میں تلخی آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔