وہ بالی ووڈ ستارے جو پڑھائی چھوڑ کر آج کروڑوں کے مالک ہیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک)صرف اعلی تعلیم اور ڈگری حاصل کرنا کسی انسان کی کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتا ہے بلکہ بعض اوقات اپنے پسندیدہ شوق سے بہت زیادہ لگن بھی آپ کو اپنی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔ بالی ووڈ میں کچھ اداکار ایسے ہیں جنہوں نے یہ ثابت کر دکھایا ہے۔پڑھوگے لکھو گے تو بنو گے نواب، کھیلو گے کودو گے تو ہو گے خراب۔ کھیل ہو یا کوئی کاروباراس کہاوت کو بہت سے لوگوں نے غلط ثابت کیا ہے لیکن انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری میں بھی ایسے کئی ستارے ہیں جنہوں نے اداکاری کی دنیا میں نام کمانے کے لیے اپنی پڑھائی درمیان میں ہی چھوڑ دی تھی اور آج پوری دنیا انہیں سلام کرتی ہے۔
سلمان خان
اس فہرست میں سب سے پہلا نام میگااسٹار سلمان خان کا ہے۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا لیکن وہ ممبئی کے سینٹ زیویئر کالج میں پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اپنی پڑھائی چھوڑ کر اداکاری میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ سال 1988 میں انہوں نے فلم ’بیوی ہو تو ایسی‘ میں شاندار کام کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
دیپیکا پڈوکون
دپیکا پڈوکون کے نام سے آج پوری دنیا واقف ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بنگلور کے ماؤنٹ کارمل کالج میں زیر تعلیم تھیں جب انہوں نے آرٹس کی ڈگری لینے کے بجائے اداکاری اور ماڈلنگ میں نام کمانے کو ترجیح دی۔ دیپیکا کا یہ فیصلہ ان کے کیرئیر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔
رنبیر کپور
کپور خاندان میں رنبیر کپور کو ان کے خاندان کے سب سے زیادہ ہونہار بچوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ لیکن پڑھائی کی بات کی جائےتو انہوں نے صرف 10ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی، اس کے بعد وہ فلم میکنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک چلے گئے، لیکن وہاں اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی بھارت آگئے اور سینما کی دنیا میں گم ہوگئے۔
ریکھا
بالی ووڈ کی سدا بہار اداکارہ ریکھا نے بھی اسکول کی تعلیم پوری نہیں کی اور درمیان میں ہی چھوڑ کرفلم انڈسٹری میں کام کرنا شروع کردیا۔ وہ صرف 14 سال کی تھیں جب انہوں نے پہلی بار کیمرے کے سامنے پرفارم کیا۔
ارجن کپور
ارجن کپور کی تعلیم بھی واجبی رہی ہے۔ اداکارکا 10ویں کلاس مکمل کرنے کے بعد ہی پڑھائی سے دل اچاٹ ہوگیا۔ وہ نرسی مونجی کالج، ممبئی میں پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے اپنی پڑھائی چھوڑ کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر انڈسٹری جوائن کرنے کا فیصلہ کیا۔
کرینہ کپور خان
کرینہ کپور خان بھی ایسی ہی فہرست میں شامل ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے مٹھی بائی کالج، ممبئی میں کامرس کی ڈگری حاصل کرنے کی غرض سے داخلہ لیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنی پڑھائی چھوڑ دی اور ایف ٹی آئی آئی میں ایک مختصر مدتی اداکاری کا کورس کیا جو ان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
عامر خان
بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان بھی تعلیم ادھوری چھوڑ کر فلم انڈسٹری جوائن کرنے میں سر فہرست ہیں۔ عامر خان نے بھی اسی کالج میں تعلیم حاصل کی جس کالج میں ارجن کپور نے تعلیم حاصل کی تھی۔ عامر نے اپنی پڑھائی چھوڑ کر فلمی دنیامیں میدان مارنے کا فیصلہ کیا تھا اورشومئی قسمت کہ انہیں اپنی پہلی فلم ”قیامت سے قیامت تک“ سے ہی ایک بڑا بریک تھرو ملا اور وہ شہرت کی بلندیوں کو چھوتے چلے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: جب انہوں نے تعلیم حاصل انہوں نے ا کالج میں بالی ووڈ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔