نان فائلرزکی موجیں ختم،ایف بی آر کی نئی پالیسی کیا ہے؟جانیے
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
نان فائلرزکی موجیں ختم ہو گئیں، ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ بڑھانےکیلئےنئی پالیسی کااعلان کر دیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر ایف بی آر کا کہنا ہے کہ نان فائلر اب پراپرٹی یا پلاٹ خرید نہیں سکیں گے،زمین خریدنے کےلئے شہریوں کو پہلے ایف بی آر میں رجسٹرڈکراناپڑےگا،اب جائیداد یا پلاٹ کی خرید ا ر ی پر مکمل ٹیکس گوشوارے جمع کروانے ہونگے۔ٹیکس گوشوارے جمع ہونے سے ٹیکس نیٹ میں اربوں روپے کا اضافہ ہوگا،اس پالیسی سے لاکھوں افراد ٹیکس نیٹ میں آئیں گے۔چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لانگریال نے بتایا کہ نان فائلرز کے لیے 15 مخصوص سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی، جن میں ابتدائی طور پر 5 شعبوں پر توجہ دی جائے گی، یہ اقدامات وزیر اعظم کی منظوری سے ایف بی آر کے تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر
پڑھیں:
100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
اسلام آباد: 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے، یہ سوال اکثر موبائل صارفین کے ذہن میں آتا ہے۔ پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے لاکھوں پری پیڈ صارفین ہر ریچارج پر مختلف ٹیکس ادا کرتے ہیں، جس کے باعث مکمل رقم بطور بیلنس دستیاب نہیں ہوتی۔
موجودہ ٹیکس نظام کے مطابق اگر کوئی صارف 100 روپے کا موبائل لوڈ کرواتا ہے تو اس کے موبائل اکاؤنٹ میں استعمال کے لیے صرف 72 روپے 77 پیسے کا بیلنس دستیاب ہوتا ہے، جبکہ 27 روپے 23 پیسے مختلف ٹیکسوں کی مد میں منہا کر لیے جاتے ہیں۔
100 روپے کے لوڈ پر کتنی کٹوتی ہوتی ہے؟
سرکاری ٹیکس نظام کے مطابق سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 13 روپے 4 پیسے کٹ جاتے ہیں۔
اس کے بعد باقی رہ جانے والی رقم پر 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کیا جاتا ہے، جس کے باعث مزید تقریباً 14 روپے 19 پیسے کی کٹوتی ہوتی ہے۔
یوں مجموعی طور پر 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے کا جواب یہ ہے کہ صارف کو صرف 72.77 روپے ہی استعمال کے لیے ملتے ہیں۔
پری پیڈ صارفین پر زیادہ بوجھ
ماہرین کے مطابق پری پیڈ موبائل صارفین مجموعی طور پر تقریباً 34.5 فیصد ٹیکس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 20 کروڑ سے زائد موبائل صارفین موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد پری پیڈ کنکشن استعمال کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل سروسز اور انٹرنیٹ پر زیادہ ٹیکس عائد ہونے سے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ کم آمدنی والے صارفین کے لیے رابطے اور انٹرنیٹ کی سہولت مزید مہنگی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موبائل سروسز پر ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں بھی اضافہ ممکن ہے۔