پاکستان اور جبوتی کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
پاکستان اور جبوتی نے دوطرفہ سیاسی مشاورت سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، پاکستان اور جبوتی نے 14 جنوری کو جبوتی میں دوطرفہ سیاسی مشاورت کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی تجارتی وفد کا12 سال بعد دورہ بنگلہ دیش، تعلقات مزید گہرے کرنے پر اتفاق
پاکستان کی جانب سے ایڈیشنل سیکریٹری (افریقہ ڈویژن) حامد اصغر خان اور جبوتی کے مستقل سیکریٹری جنرل (سیکریٹری خارجہ) محمود علی حسن نے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے۔
دستخط کی تقریب کے بعد دونوں فریقین نے دو طرفہ سیاسی مشاورت کا افتتاحی اجلاس منعقد کیا، فریقین نے دونوں برادر ممالک کے درمیان موجودہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے ساتھ پارلیمانی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانا چاہتے ہیں، چیئرمین سعودی شوریٰ کونسل
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق، فریقین نے مفاہمتی یاداشت کو آنے والے دنوں میں تجارت اور سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جامع اور پائیدار دوطرفہ شراکت داری کی تعمیر کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے سیاسی، اقتصادی، دفاع اور سلامتی کے شعبوں سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، فریقین نے تمام سطحوں پر بڑھتے ہوئے روابط کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2024 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے 20 غیر ملکی دورے
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ فریقین نے شاندار کثیرالجہتی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ دوطرفہ بات چیت میں مشرق وسطیٰ اور ہارن آف افریقہ کی صورتحال پر خصوصی طور پر توجہ دی گئی۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور جبوتی کے درمیان دوطرفہ تعلقات روز بروز مضبوط ہورہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے مئی 2022 میں جبوتی میں اپنا رہائشی مشن کھولا تھا، دوطرفہ سیاسی مشاورت کا آئندہ اجلاس اگلے سال کے شروع میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بات چیت پاکستان ترجمان جبوتی دستخط دفتر خارجہ دوطرفہ تعلقات سیاسی مشاورت شفقت علی خان مفامت کی یادداشت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بات چیت پاکستان جبوتی دفتر خارجہ دوطرفہ تعلقات سیاسی مشاورت شفقت علی خان مفامت کی یادداشت دوطرفہ سیاسی مشاورت دوطرفہ تعلقات ترجمان دفتر دفتر خارجہ دستخط کی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔