نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2025 سب نیوز
واشنگٹن:نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کی تقریب حلف برداری کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو امریکا کے 46 ویں صدر جو بائیڈن کی اقتدار سے دستبرداری کے بعد دوسری مدت کے لیے حلف اٹھائیں گے۔
تقریب حلف برداری امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے یو ایس کیپیوٹل کی سیڑھیوں پر منعقد ہو گی، جہاں وہ باضابطہ طور پر کانگریس کے ارکان، سپریم کورٹ کے ججز، اپنی آنے والی انتظامیہ اور ہزاروں شرکاء کے سامنے حلف اٹھائیں گے۔
اس اہم موقع کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ 48 کلومیٹر طویل سیاہ حفاظتی باڑ لگائی جا رہی ہے، جبکہ 25 ہزار پولیس افسران کو تعینات کیا گیا ہے اور سکیورٹی چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں۔
اس کے علاوہ، وائٹ ہاؤس سے کیپیوٹل تک 3 کلومیٹر تک کا علاقہ گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے تصدیق کی ہے کہ وہ یقیناً ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے 20 جنوری 2021 کو بائیڈن کی حلف برداری میں شرکت نہیں کی تھی، اور وہ 150 سالوں میں پہلے صدر بنے تھے جنہوں نے اقتدار کی پرامن منتقلی کی امریکی روایت کو توڑ دیا تھا۔
ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے بڑی عالمی طاقتوں اور امریکا کے اہم اتحادیوں کو دعوت نامے ارسال کیے گئے ہیں، جس سے یہ تقریب نہ صرف امریکا بلکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹرمپ کی حلف برداری کی ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر
پڑھیں:
صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ سے متعلق انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کا حکم دے دیا
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 07 مئی ۔2025 )امریکہ نے گرین لینڈ سے متعلق انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں یہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس جزیرے کو حاصل کرنے کی مہم سے امریکی جاسوسی اداروں کی وابستگی ظاہر کر رہی ہے امریکی جریدے”وال اسٹریٹ جرنل“ نے ذرائع کے حوالے سے بتائی ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ٹلسی گیبارڈ کی نگرانی میں متعدد اعلیٰ سطحی اہل کاروں نے گذشتہ ہفتے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان کو ایک خط جاری کیا تھا پیغام میں گرین لینڈ کی آزادی کی تحریک اور وہاں امریکی وسائل کے ممکنہ استعمال کے بارے میں مزید جاننے کی ہدایت دی گئی.(جاری ہے)
یہ خفیہ پیغام جاسوسی، مواصلات کی نگرانی اور زمینی ایجنٹوں پر مشتمل ایجنسیوں کو یہ ذمہ داری سونپتا ہے کہ وہ گرین لینڈ اور ڈنمارک میں ان افراد کی نشان دہی کریں جو امریکہ کے مفادات کی حمایت کرتے ہیں امریکی جریدے کے مطابق یہ ہدایت امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کے حوالے سے اٹھایا گیا ایک عملی قدم ہے اس خط کی مدد سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ترجیحات طے کرنے اور وسائل کو اہم اہداف کی طرف موڑنے میں مدد ملے گی. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ہدایت جسے سی آئی اے، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی اور نیشنل سیکیورٹی ایجنسی جیسے اداروں کو بھیجا گیا وائٹ ہاﺅس کے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے گرین لینڈ خود مختار حیثیت رکھنے والا خطہ ہے مگر یہ ڈنمارک کا حصہ ہے، جو نیٹو کا رکن اور امریکہ کا دیرینہ اتحادی ہے. وائٹ ہاﺅس کے نیشنل سیکورٹی کونسل کے ترجمان جیمز ہیویٹ کا کہنا ہے کہ وہ انٹیلی جنس امور پر تبصرہ نہیں کرتے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کو گرین لینڈ اور آرکٹک کی سلامتی پر تشویش ہے دوسری جانب ٹلسی گیبارڈ نے اپنے بیان میں” وال اسٹریٹ جرنل“ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جریدے نے انٹیلی جنس معلومات کو سیاسی رنگ دے کر ”ڈیپ اسٹیٹ“ عناصر کی مدد کی ہے جو صدر کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ عناصر نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ قومی سلامتی اور جمہوریت کو بھی کمزور کر رہے ہیں. یاد رہے کہ اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران صدر ٹرمپ نے کھل کر یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ 8 لاکھ 36 ہزار مربع میل پر پھیلے اس جزیرے کو خریدنا یا اس پر امریکی کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں اس پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کی جانب سے سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا تھا.