نوشہرہ ورکاں، دیرینہ رنجش پر 3افراد قتل،4 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
نوشہرہ ورکاں (اے پی پی) نوشہرہ ورکاں میں دیرینہ رنجش پر شادی سے واپس آتے تین افراد مخالفین کی فائرنگ سے قتل،راہگیروں سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔بتایاگیا ہے کہ نوشہرہ ورکاں کے نواحی گاں اولکھ بھائیکے کے ڈیرہ میرے والا کا رانا محمد اسلم اپنی اہلیہ شمائلہ اور دوست محسن ساکن تھابل کے ہمراہ شادی کی تقریب میں شرکت کرکے اپنی گاڑی میں واپس نوشہرہ ورکاں آرہاتھا کہ جنڈیالہ شیر خان کے قریب دیرینہ دشمنی پر مخالفین نے گاڑی پراندھا دھند فائرنگ کردی، اچانک شدید فائرنگ سے رانا اسلم عرف رانا کودی، اس کی اہلیہ شمائلہ بی بی اور دوست محسن موقع پر جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک خاتون کائنات زوجہ اسد عمر شدیدزخمی ہو گئی۔ گاڑی میں موجود ایک سالہ بچہ معجزانہ طور پر محفوظ رہاجبکہ فائرنگ کی زد میں آکر عبدالغفور سمیت دو راہگیر زخمی ہوگئے۔ وقوعہ کی اطلاع پر ڈی پی او شیخو پورہ بلال ظفر موقع پر پہنچ گئے ۔ذرائع کے مطابق مقامی پولیس نے تہرے قتل کی واردات کے بعد فرار ہونے والے 5 ملزمان کواسلحہ سمیت گرفتار کرلیا،جبکہ زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ منتقل کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نوشہرہ ورکاں
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔