کرینہ کپور نے پولیس کو کیا بیان ریکارڈ کروایا؟اہم خبرآگئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
ممبئی(شوبز ڈیسک)معروف بالی وڈ اداکارہ کرینہ کپور نے شوہر سیف علی خان پر چاقو حملے کے سلسلے میں باندرہ پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا۔انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کرینہ کپور نے آج شام اپنی رہائش گاہ پر اعلیٰ پولیس افسران کی موجودگی میں بیان ریکارڈ کروایا، حملے کے سلسلے میں اب تک 30 سے زائد افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ممبئی پولیس نے تحقیقات کیلیے کرائم برانچ کی 10 ٹیموں سمیت 20 ٹیمیں تشکیل دی ہیں جبکہ علاقے سے سی سی ٹی وی کی فوٹیجز قبضے میں لے لی گئیں اور تین مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔تاہم واقعے کے سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
اس سے قبل سیف علی خان کے عملے کے ارکان کو کیس سے متعلق پوچھ گچھ کیلیے باندرہ پولیس اسٹیشن لایا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ سیف علی خان کو جمعرات کی علی الصبح رہائش گاہ کے 11ویں منزل پر ملزم نے چاقو حملے میں زخمی کر دیا گیا تھا اور وہ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔اداکار کی لیلاوتی اسپتال میں سرجری ہوئی۔
ڈاکٹروں کے مطابق ان کی ریڑھ کی ہڈی میں چاقو لگنے سے ہڈی میں شدید چوٹ آئی ہے۔ فلم اسٹار کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ڈاکٹر ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:شوٹنگ کے دوران چھت گرنےسے اداکار ارجن کپور زخمی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔