پولیس اہلکاروں کو گاڑی سے ٹکر مارنے کا کیس؛راناثنااللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کالعدم قرار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
گوجرانوالہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)سیشن کورٹ گوجرانوالہ نے پولیس اہلکاروں کو گاڑی سے ٹکر مارنے کے کیس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اور طلبی کا حکم کالعدم قرار دیدیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق رانا ثنا اللہ کیخلاف مقدمہ اکتوبر2020میں تھانہ سٹیلائٹ ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا، کالعدم احکامات جوڈیشل مجسٹریٹ سدرہ گل نواز نے جاری کئے تھے،رانا ثنا اللہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ سیشن عدالت میں چیلنج کر رکھا تھا۔
عدالت نے پولیس اہلکاروں کو گاڑی سے ٹکر مارنے کے کیس میں راناثنااللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ، طلبی کا حکم اور بےگناہی سے متعلق پولیس رپورٹ مسترد کرنے کا حکم بھی کالعدم قرار دیدیا۔
مذاکرات کی بحالی پر دوبارہ غور کیلئے حکومت کمیشن کا اعلان کرے، بیرسٹر گوہر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔