فلسطینی اسلامی مزاحمت کے مرکزی رہنما نے اعلان کیا ہے کہ غاصب اسرائیلی وزیراعظم معاہدے کے دوسرے مرحلے کی شروعات پر مجبور ہے جبکہ جنگ دوبارہ شروع کرنیکے بارے اسکے بیانات بے معنی و کھوکھلے ہیں جنکا صرف "اندرونی استعمال" ہے! اسلام ٹائمز۔ فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے مرکزی رہنما سامی ابو زہری نے اعلان کیا ہے کہ ثالثوں نے حماس و غاصب اسرائیلی رژیم کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لئے اقدامات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں۔ الجزیرہ کے ساتھ گفتگو میں سامی ابو زہری کا کہنا تھا کہ غاصب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے پاس اس معاہدے کو آخر تک جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں جبکہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بارے اس کے بیانات بے معنی و کھوکھلے ہیں جن کا صرف اور صرف (غاصب صیہونی رژیم میں) اندرونی استعمال ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ نیتن یاہو نہ صرف جنگ میں اپنے اعلان کردہ اہداف کو حاصل کرنے بلکہ ان کے ادراک میں بھی یکسر ناکام رہا ہے، حماس کے مرکزی رہنما نے کہا کہ مہاجرین کی واپسی اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ جسے نیتن یاہو کی ناکامی کے حوالے سے پیش کیا جا سکتا ہے جبکہ ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ امریکہ بھی اس معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لئے کوشاں ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ فلسطینی مزاحمت، معاہدے کی تمام شقوں کو مکمل طور پر نافذ کرنے کو تیار ہے، سامی ابو زہری نے تاکید کی کہ جنگ کے بعد کے وقت کے بارے مفہوم اور حماس کی طاقت کے خاتمے کا تصور اب موجود نہیں کیونکہ غزہ کا مستقبل خالصتاً فلسطین کا اندرونی معاملہ ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ایسی حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ جس پر تمام فلسطینی عوام متفق ہوں جبکہ ایسے کسی بھی معاہدے کی راہ میں واحد رکاوٹ (محمود عباس کی) رام اللہ حکومت ہے کہ جس نے غزہ کے حق میں انتہائی کوتاہی سے کام لیا ہے لہذا ہم اس سلسلے میں کسی بھی فریق کو سرپرستی کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پناہ گزینوں کی واپسی ایک عظیم کامیابی ہے جو مزاحمت کی فوجی فتوحات کے برابر ہے، حماس کے مرکزی رہنما نے کہا کہ (فلسطینی مہاجرین کی) اس واپسی نے غاصب نیتن یاہو کے (غیر قانونی) یہودی آبادکاری کے مقاصد کو ناکام بنا دیا ہے۔ اپنی گفتگو کے آخر میں سامی ابو زہری کا کہنا تھا کہ حماس غزہ کی پٹی میں "کسی بھی قیمت پر اقتدار پر قبضہ" نہیں چاہتی بلکہ وہ غزہ کی تعمیر نو اور انتخابات کے انعقاد کے لئے حالات پیدا کرنے کی خاطر ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے مرکزی رہنما نیتن یاہو

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل