انٹر کے متنازع نتائج؛ اسمبلی کمیٹی نے انکوائری وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی کے سپرد کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
کراچی:
انٹر بورڈ کراچی میں فرسٹ ایئر میں کامیابی کے کم تناسب (short passing ratio) کے معاملے پر اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی نے معاملے کی انکوائری این ای ڈی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سروش لودھی کے سپرد کردی ہےجو اس معاملے کی تحقیقات کرکےرپورٹ 12 فروری تک اسمبلی کمیٹی کو دیں گے۔
کمیٹی میں گزشتہ برس کی طرز پر ایک بار پھر آئی بی اے کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اکبر زیدی، سیکریٹری سندھ ایچ ای سی معین صدیقی اور کنٹرولر این ای ڈی کو شامل کیا جارہا ہے، اس کمیٹی کا نوٹیفکیشن جلد جاری کردیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اسی طرح کا معاملہ گزشتہ برس بھی سامنے آیا تھا جب سندھ میں نگراں حکومت تھی اور نگراں وزیر اعلی سندھ جسٹس(ر) مقبول باقر نے مذکورہ اراکین پر مشتمل کمیٹی کو ہی یہ انکوائری سونپی تھی اور اسی کمیٹی کی سفارش پر انٹر سال اول میں فیل ہونے والے طلبہ کو گریس مارکس دے کر پاس کیا گیا تھا جبکہ اس بار بھی ڈاکٹر سروش لودھی کی کنوینر شپ میں مذکورہ کمیٹی کو انکوائری حوالے کی گئی ہے۔
اس بات کا فیصلہ بدھ کو صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ کی زیر صدارت منعقدہ اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ پروفیسر شرف علی شاہ نے کمیٹی کو بتایا کہ بورڈ کی تشکیل شدہ کالج پروفیسرز پر مشتمل اپنی کمیٹی نے کئی ہزار کاپیوں کی بری اسسمنٹ کی ہے اور نتائج میں کوئی بڑی یا قابل ذکر غلطیاں نظر نہیں آئیں۔
علاوہ ازیں اس سلسلے میں جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نتائج پر اعتراضات کو تھرڈ پارٹی طریقہ کار کے ذریعے چیک کیا جائے گا اور اس سلسلے میں فیکٹ چیک کمیٹی قائم کی جارہی ہے، اس اجلاس میں کمیٹی اراکین میں سعدیہ جاوید، محمد یوسف بلوچ، اعجاز خان، عبدالوسیم محمد فارق و دیگر نے شرکت کی جبکہ اراکین اسمبلی میں علی خورشیدی، سیدہ ماروی راشدی، عادل عکسری، ڈاکٹر سکندر شورو، عبدالباسط و دیگر خصوصی حیثیت میں شریک ہوئے۔
اعلامیے کے مطابق این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈرز، چئیرمین کراچی بورڈ نے بھی خصوصی شرکت کی، اس موقع پر بورڈ نتائج پر اعتراضات کے حوالے سے گزشتہ سال کی انکوائری کی تفصیلات پیش کی گئیں، گزشتہ تحقیقات کے تحت بورڈ کی طرف سے خامیوں اور تیکنیکی پہلوؤں نشاندہی کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر سروش لودھی نے بتایا کہ اسسمینٹ اور ٹیبیولیشن پرنتائج میں فرق کے بھی ثبوت دیکھنے میں آئے جبکہ کمپیوٹرز تک رسائی کو روکنے کے لیے ضروری سیکیورٹی انتظامات میں بھی خامیاں نظر آئی تھیں۔
اجلاس میں اراکین کی طرف سے بتایا گیا کہ بورڈ نے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کے بجائے انھیں صرف عہدوں سے ہٹایا تھا، اجلاس کو بورڈ چیئرمین پروفیسر علی شاہ کی طرف آگاہی دی گئی کہ نتائج پر اعتراضات کے حوالے سے اب تک 24 ہزار درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔
کمیٹی نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ طلبا کی طرف سے آنے والے اعتراضات کو تھرڈ پارٹی طریقہ کار کے تحت چیک کیا جائے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر سروش لودھی کی سربراہی میں فیکٹ چیک کمیٹی بنا کر اس بات کا مینڈیٹ دیا گیا ہے کہ وہ دیگر بورڈ کی مدد سے اسسمینٹ پر اعتراضات کو چیک کریں، نتائج پر فیکٹ چیک کمیٹی کاپیز کی اسسمینٹ اور ٹیبولیشن مکینزم کی انکوائری رپورٹ 12 فروری تک پیش کرے گی، فیکٹ چیک کمیٹی اسسمینٹ اور مارک شیٹ کے نتائج میں فرق کے حوالے سے بھی جائزہ لے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پر اعتراضات اجلاس میں کمیٹی کو نتائج پر کمیٹی نے کی طرف
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔