آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے وقف ترمیمی بل کی منظوری اور سول کوڈ کے نفاذ کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
ذرائع کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رہنمائوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی نے وقف ترمیمی بل منظور کر کے تمام جمہوری و اخلاقی اقدار اور مسلمانوں کو بھارتی آئین کے تحت حاصل حقوق کو پامال کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر دینی و ملی تنظیموں نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے وقف ترمیمی بل کی منظوری اور اتراکھنڈ میں سول کوڈ کے نفاذ کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رہنمائوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی نے وقف ترمیمی بل منظور کر کے تمام جمہوری و اخلاقی اقدار اور مسلمانوں کو بھارتی آئین کے تحت حاصل حقوق کو پامال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے کروڑوں کی تعداد میں دی گئی مسلمانوں کی آرا، ان کے جذبات و احساسات کو نظرانداز اور اپوزیشن ممبران کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے متنازعہ بل کو منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری کو انتہائی نا مناسب، غیر جمہوری اور مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکے کے مترادف ہے۔ بورڈ کے رہنمائوں نے کہا کہ ریاست اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ غیر جمہوری، غیر دستوری اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر ایک حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قانون مسلمانوں کیلئے ہرگز قابل قبول نہیں۔ بھارت کے آئین میں مسلمانوں سمیت تمام شہریوں کو اپنا مذہبی عقیدہ رکھنے اور مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ مسلم پرسنل لا دین اسلام کا جزو لا ینفک ہے، جسے شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937ء کے تحت بھی تحفظ ہے۔ مسلم رہنمائوں نے دعویٰ کیا کہ کسی ریاست کو یونیفارم سول کوڈ بنانے کا ہرگز اختیار نہیں ہے، یہ ریاستی حدود سے مجرمانہ تجاوز ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور تمام مسلم تنظیموں نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کو وقف املاک سے کھلواڑ کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت مسلمانوں کے صبر کا امتحان نہ لے اور ملک کو جمہوریت کے بجائے تانا شاہی کی طرف نہ لے کر جائے۔ مسلم رہنمائوں نے مودی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس ترمیمی بل کو فورا واپس لے بصورت دیگر مسلمان ملک گیر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔