سیف علی خان کے گھر پر حملے کے بعد کرینہ کپور نے بڑا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
بالی وڈ اداکار سیف علی خان اور ان کی اہلیہ کرینہ کپور نے فوٹوگرافرز اور میڈیا سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے بچوں تیمور علی خان اور جہانگیر (جے) علی خان کی تصاویر نہ لیں اور نہ ہی ان کے گھر کے باہر موجود رہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، یہ درخواست 16 جنوری کو سیف علی خان کے گھر میں ہونے والی ڈکیتی اور حملے کے بعد کی گئی ہے، جس میں اداکار شدید زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد جوڑے نے اپنی اور بچوں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا۔
جوڑے کے منیجر نے میڈیا سے گزارش کی کہ:”چاہے گارڈن ہو، کوئی تقریب یا کھیل کی سرگرمی – براہ کرم بچوں کی تصاویر نہ لیں۔”
البتہ، سیف علی خان اور کرینہ کپور کی کسی بھی تقریب میں شرکت کی تصاویر لی جا سکتی ہیں، لیکن ان کے گھر کے باہر فوٹوگرافرز کا ہجوم نہ ہو اور ان کی آمد و رفت کی تصویریں بھی نہ لی جائیں۔
16 جنوری کی رات 3 بجے ممبئی کے باندرا میں سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش کی گئی، جسے اداکار نے مزاحمت کرکے ناکام بنایا۔
اس دوران سیف پر چاقو سے حملہ کیا گیا، جس سے انہیں 6 زخم آئے، جن میں سے دو کافی گہرے تھے، اور ایک زخم ریڑھ کی ہڈی کے قریب لگا۔ سیف کو فوری طور پر رکشہ کے ذریعے اسپتال لے جایا گیا، جہاں آپریشن کے بعد ان کی ریڑھ کی ہڈی سے 2.
سیف کو 6 دن بعد اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سیف علی خان ان کے گھر کے بعد
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔